ویب ڈیسک حیدرآباد: مورخہ 20 اکتوبر 2022 کو سوشل میڈیا پر ایک آڈیو وائس نوٹ وائرل ہوا، جس میں 02 خواتین حیسکو لیڈی اسپورٹس پلیئرز نے حیسکو ایچ آر ڈائریکٹر عثمان میمن پر جنسی حراساں کرنے کا سنگین الزام عائد کیا۔ 

جس کے بعد حیسکو ایچ آر ڈائریکٹر عثمان میمن نے بجائے خود پر لگائے گئے الزامات کی انکوائری کروانے کے خود کو انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے دونوں خواتین کے خلاف قانونی کارروائی کے بجائے انتقامی کاروائی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے دونوں خواتین کو فروری 2021 میں لیٹر آف ایکسپلینیشن دیا اور پھر 18 مئی 2022 کو شوکاز نوٹیس دیکر 19 مئی 2022 کو نوکری سے جبری ریٹائرڈ کرنے کی سزا کا پینلٹی آرڈر جاری کردیا۔

جب کہ حیسکو خواتین نے انہیں حیسکو ایچ آر ڈائریکٹر عثمان میمن کی طرف سے جنسی حراساں کرنے پر شکایتی درخواست بھی کر رکھی تھی مگر چیف ایگزیکٹو آفیسر حیسکو نور احمد سومرو نے کوئی بھی کاروائی کرنے کے بجائے اپنے ایڈمن آفیسر کو سپورٹ کرتے رہے اور کوئی بھی کاروائی نہیں کی۔

اس کے علاؤہ حیسکو خواتین نے وفاقی محتسب اور دیگر اداروں کو انہیں حیسکو میں حیسکو ایچ آر ڈائریکٹر عثمان میمن کی طرف سے جنسی حراساں کرنے سے متعلق آگاہ بھی کیا مگر ان کو نہ انصاف ملا نہ ان کی شکایت کا ازالہ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کو اپنی نوکری سے بھی ہاتھ دھونے پڑے گئے۔ 

سکے بعد حیسکو دیگر خواتین میں شدید بے چینی اور مایوسی چھائی ہوئی اور حیسکو میں جنسی بھیڑیئے معصوم لیبر اسٹاف خواتین کا استحصال کرنے کیلئے ہر وقت تیار بیٹھے ہیں۔