حیسکو میں انتظامی اختیارات، عارضی بورڈ اور سی کیٹیگری افسران کے کنٹریکٹ میں
دو سالہ توسیع: قانونی اختیار کس کے پاس ہے؟ شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ گئے!
حیدرآباد (بلاگر نیوز): حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں انتظامی اختیارات کے استعمال، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی قانونی حیثیت اور اعلیٰ انتظامی افسران کے ملازمت کے معاہدوں میں توسیع کے حوالے سے ایک نیا معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے ادارے کے انتظامی ڈھانچے، کارپوریٹ گورننس اور سروس قوانین پر متعدد اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
حیسکو کے دفترِ چیف ایگزیکٹو آفیسر سے مورخہ 29 ستمبر 2026ء کو جاری ہونے والے آفس آرڈر نمبر:
No.CEO/HESCO/Admn&HR Dir/DM(CM)/A-1/6328-35
کے مطابق بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 279ویں اجلاس، منعقدہ 23 ستمبر 2026ء، میں کیے گئے فیصلے کی روشنی میں تین سی-کیٹیگری افسران کے ملازمت کے معاہدوں میں مزید دو سال کی توسیع کی منظوری دی گئی ہے۔
آفس آرڈر میں کمپنی سیکریٹری کی جانب سے جاری کردہ اجلاس کی کارروائی کے اقتباس کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس کے تحت متعلقہ افسران کے موجودہ کنٹریکٹس کی میعاد ختم ہونے کے بعد مزید دو سال تک توسیع کی گئی ہے۔
تاہم اس فیصلے کا سب سے اہم پہلو صرف افسران کے کنٹریکٹ میں توسیع نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس منظوری کے وقت حیسکو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی قانونی تشکیل، مجاز اتھارٹی اور فیصلہ سازی کے اختیار کی اصل حیثیت کیا تھی؟
تین اعلیٰ افسران کے کنٹریکٹ میں مزید دو سال کی توسیع:
29 ستمبر 2026ء کو جاری کردہ آفس آرڈر کے مطابق جن تین افسران کے ملازمت کے معاہدوں میں توسیع کی گئی ہے، ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1۔ مسٹر فیض اللّٰہ ڈاہری
عہدہ: چیف فنانشل آفیسر (CFO)
موجودہ کنٹریکٹ کی اختتامی تاریخ: 13 جنوری 2027ء
توسیع شدہ مدت: 14 جنوری 2027ء تا 13 جنوری 2029ء
2۔ مسٹر آفتاب احمد (Aftab Ahmed)
عہدہ: چیف انٹرنل آڈیٹر (CIA)
موجودہ کنٹریکٹ کی اختتامی تاریخ: 29 اکتوبر 2026ء
توسیع شدہ مدت: 30 اکتوبر 2026ء تا 29 اکتوبر 2028ء
3۔ مسٹر تنویر عبداللّٰہ
عہدہ: چیف لیگل آفیسر (CLO)
موجودہ کنٹریکٹ کی اختتامی تاریخ: 02 فروری 2027ء
توسیع شدہ مدت: 03 فروری 2027ء تا 02 فروری 2029ء
یہاں قابلِ غور بات یہ ہے، کہ تینوں افسران کے معاہدوں میں توسیع دو سال کے لیے کی گئی ہے، جس کا اطلاق متعلقہ افسر کے موجودہ معاہدے کی میعاد ختم ہونے کے بعد ہوگا۔
لیکن کیا اس فیصلے کے لیے اختیار استعمال کرنے والی اتھارٹی خود قانونی طور پر مکمل طور پر با اختیار تھی؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کی وضاحت ضروری ہے۔
حیسکو کا عارضی بورڈ: چار رکنی انتظامی ڈھانچے کی قانونی حیثیت کیا ہے؟
دستیاب معلومات اور اٹھائے گئے اعتراضات کے مطابق حیسکو میں مارچ 2025 سے گزشتہ عرصے سے مکمل بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل اور اس کی قانونی حیثیت کا معاملہ زیرِ بحث رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ادارے کے انتظامی معاملات چلانے کے لیے چار رکنی عارضی انتظامی کمیٹی کی تشکیل کا معاملہ بھی سامنے آیا، جن مندرجہ ذیل:
01۔ جناب سمیع اللّٰہ خان: نان ایگزیکٹو ڈائریکٹر: ڈپٹی سیکریٹری CAD منسٹری آف اینرجی اینڈ پاور ڈویژن، گورنمنٹ آف پاکستان اسلام آباد۔
02۔ جناب چودھری سعادت غنی: نان ایگزیکٹو ڈائریکٹر: ڈپٹی سیکریٹری CF-II منسٹری آف فنانس، گورنمنٹ آف پاکستان اسلام آباد۔
وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) اور وزارتِ خزانہ سمیت دو نمائندوں کے علاوہ حیسکو کے دو انتظامی افسران کی شمولیت سے متعلق معلومات حیسکو کی ویب سائٹ اور وزارت توانائی اور حکومت پاکستان کے دیگر اہم انفارمیشن پلیٹ فارمز پر موجود ہے۔
ان باقی حیسکو کے دو BoD ممبران میں مندرجہ ذیل حیسکو کے (ٹاپ لیول) افسران شامل ہیں، جن میں
03۔ فیض اللّٰہ ڈاہری، چیف فنانشل آفیسر حیسکو، جنہیں گزشتہ دو سال سے یعنی جنوری 2025 سے چیف ایگزیکٹو آفیسر حیسکو کا اضافی اور عارضی چارج بھی سونپا گیاہے۔
04۔ مانجھی خان ہنگورو: جو دستیاب معلومات کے مطابق ایک ہی وقت حیسکو مینجر (ایڈمن)، مینجر (لیگل) کے ساتھ ایک تیسرا عہدہ کمپنی سیکریٹری حیسکو کی اضافی ذمہ داریاں بھی سنبھالتا ہے اور ممکن ہے، کہ انہیں کوئی چوتھا عہدہ بھی سونپ دیا گیا ہو؟
یہاں ایک اہم قانونی فرق سمجھنا ضروری ہے، کہ کسی انتظامی کمیٹی، عبوری انتظامی سیٹ اپ یا مجاز اتھارٹی کو خودبخود مکمل بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تمام قانونی اختیارات حاصل نہیں ہو جاتے۔
اس کے لیے ضروری ہے، کہ اس کی تشکیل، تقرری، اختیارات کی تفویض اور فیصلہ سازی کا طریقہ کار متعلقہ قانون، حکومتی نوٹیفکیشن اور کمپنی کے آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن کے مطابق ہو۔
اگر چار رکنی کمیٹی کو باقاعدہ قانونی طور پر بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اختیارات تفویض ہی نہیں کیے گئے، تو اس کے فیصلوں کی قانونی بنیاد اور قانونی حیثیت کیا ہوگی؟
اور اگر اسے بورڈ کے اختیارات حاصل ہیں، تو وہ نوٹیفکیشن اور قانونی دستاویزات عوام کے سامنے کیوں نہیں لائی جاتیں؟
اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز ایکٹ 2023ء: قانونی پیچیدگی کا اہم پہلو
اس معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے پاکستان کے State-Owned Enterprises (Governance and Operations) Act, 2023 کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس قانون کی دفعہ 12 کے مطابق کسی سرکاری ملکیتی کمپنی کے بورڈ میں آزاد ڈائریکٹرز، ایکس آفیشیل ڈائریکٹرز اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کی شمولیت کا انتظام موجود ہے، جبکہ بورڈ کی اکثریت آزاد ڈائریکٹرز پر مشتمل ہونا ضروری ہے۔
اسی طرح حکومت کی SOE Ownership and Management Policy 2023 میں عمومی طور پر بورڈ کی تعداد پانچ سے گیارہ ارکان رکھنے اور اکثریت آزاد ڈائریکٹرز پر مشتمل ہونے کا اصول بیان کیا گیا ہے، سوائے ان صورتوں کے جہاں کوئی قابلِ اطلاق قانون مختلف انتظام فراہم کرتا ہو۔
اس تناظر میں چند بنیادی قانونی سوالات پیدا ہوتے ہیں:
کیا حیسکو کی چار رکنی عارضی کمیٹی باقاعدہ طور پر قانون کے تحت تشکیل شدہ بورڈ آف ڈائریکٹرز تھی؟اور اس کی مقررہ مدت کتنی تھی؟ اور اس کی مقررہ اور مدت کی وضاحت موجود تھی؟
کیا اس کمیٹی میں شامل افراد کی تقرری وفاقی حکومت اور متعلقہ مجاز فورم کی منظوری سے ہوئی تھی؟
کیا اس کمیٹی کو سی کیٹیگری افسران کے ملازمت کے معاہدوں میں توسیع کی منظوری دینے کا باقاعدہ اختیار حاصل تھا؟
کیا کمیٹی میں شامل کسی افسر کے اپنے ہی کنٹریکٹ یا ملازمت سے متعلق فیصلے میں مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کا پہلو پیدا ہو سکتا ہے؟
کیا بورڈ کے اجلاس میں قانونی کورم، ووٹنگ، منظوری اور منٹس کی تیاری سے متعلق تمام تقاضے پورے کیے گئے؟ کیوں کہ ایگزیکٹو بورڈ آف ڈائریکٹرز میں حیسکو کے اپنے ہی 02 افسران شامل ہیں، جو اپنی مدت ملازمت اور دوسرے افسران کی مدت ملازمت کا فیصلہ کر رہے ہیں اور منظوری دے رہے ہیں؟ کیا یہ قانونی تقاضوں سے ٹکراؤ نہیں ہے؟
یہ سوالات محض انتظامی نوعیت کے نہیں بلکہ کمپنی کے قانونی نظم و نسق اور کارپوریٹ گورننس سے براہِ راست تعلق رکھتے ہیں۔
قانونی حوالہ: اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز ایکٹ 2023ء، وزارتِ خزانہ پاکستان
14 جنوری 2025ء کا آفس آرڈر بھی اہمیت رکھتا ہے!
اس معاملے میں حیسکو کے ایک سابقہ آفس آرڈر کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، جو مورخہ 14 جنوری 2025ء کو جاری کیا گیا تھا۔
اس آفس آرڈر کے مطابق بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 255ویں اجلاس، منعقدہ 13 جنوری 2025ء، کے فیصلے کی روشنی میں مسٹر فیض اللہ ڈاہری، چیف فنانشل آفیسر حیسکو، کو چیف ایگزیکٹو آفیسر حیسکو کے عہدے کا عارضی چارج سونپا گیا تھا۔
آرڈر میں واضح کیا گیا تھا کہ یہ انتظام نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تعیناتی تک کمپنی کے روزمرہ انتظامی امور چلانے کے لیے کیا گیا ہے۔
اب یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے:
جب ایک افسر بیک وقت چیف فنانشل آفیسر کے بنیادی عہدے پر فائز ہو اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کا اضافی چارج بھی سنبھال رہا ہو، تو اس کے انتظامی اختیارات، ذمہ داریوں اور ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کا جائزہ کس فورم پر لیا جائے گا؟
خصوصاً اس وقت جب اسی افسر کا نام 29 ستمبر 2026ء کے آفس آرڈر میں ان تین افسران میں شامل ہے جن کے کنٹریکٹ میں مزید دو سال کی توسیع کی منظوری دی گئی ہے۔
یہ صورتِ حال بذاتِ خود کسی غیر قانونی عمل کا ثبوت نہیں، لیکن شفافیت اور غیر جانب دارانہ فیصلہ سازی کے تقاضوں کے تحت وضاحت ضرور طلب کرتی ہے۔
کیا بورڈ آف ڈائریکٹرز کو کنٹریکٹ میں توسیع دینے کا اختیار حاصل ہے؟
پاکستان کے Companies Act, 2017 اور SOE Act, 2023 کے تحت کمپنی کے بورڈ کے اختیارات، ذمہ داریوں اور فیصلہ سازی کا باقاعدہ ایک قانونی دائرہ موجود ہے۔
تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے، کہ چیف ایگزیکٹو کی تقرری، دیگر اعلیٰ افسران کے کنٹریکٹ کی توسیع اور انتظامی عہدوں پر تعیناتی تین الگ قانونی معاملات ہو سکتے ہیں۔
ان کے لیے متعلقہ کمپنی کے آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن، منظور شدہ HR پالیسی، ملازمت کے معاہدے، مجاز اتھارٹی کے اختیارات اور متعلقہ بورڈ کی قرارداد کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
لہٰذا صرف یہ حقیقت کہ کسی اجلاس میں منظوری دی گئی ہے، اس فیصلے کو خودبخود قانونی قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ:
اجلاس بلانے کا اختیار کس کے پاس تھا؟
اجلاس میں شریک ارکان قانونی طور پر مجاز ڈائریکٹرز تھے یا نہیں؟
کیا مطلوبہ کورم پورا تھا؟
کیا فیصلہ متعلقہ قواعد کے مطابق اکثریت سے منظور ہوا؟
کیا متعلقہ افسران کی کارکردگی، اہلیت اور کنٹریکٹ کی شرائط کا جائزہ لیا گیا؟ کیوں کہ موجودہ چیف لیگل آفیسر تنویر عبداللّٰہ کی کارکردگی متاثرکن نہیں رہی اور اس کی کارکردگی پر گزشتہ 02 سال سے مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
کیا منظوری دیتے وقت کسی ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کو مدنظر رکھا گیا؟
ان سوالات کے جوابات کے بغیر اس منظوری کو قطعی طور پر غیر قانونی یا مکمل طور پر قانونی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
قانونی حوالہ: کمپنیز ایکٹ 2017ء، ایس ای سی پی
حیسکو بورڈ کی تشکیل سے متعلق ایک اور اہم تضاد!
اس معاملے میں ایک اضافی پہلو بھی توجہ طلب ہے۔
مورخہ 06 اپریل 2026ء کو روزنامہ بزنس ریکارڈر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حیسکو کے نئے بورڈ کی تشکیل کے لیے نامزدگیوں کا معاملہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا تھا۔
دوسری جانب 26 مارچ 2026ء کی ایک میڈیا رپورٹ میں کابینہ کمیٹی برائے سرکاری اداروں (CCoSOEs) کی جانب سے حیسکو اور سیپکو کے بورڈز کی تشکیلِ نو کی منظوری کی خبر شائع ہوئی تھی۔
ان اطلاعات میں موجود تضاد کے پیش نظر حیسکو کے نئے بورڈ کی حتمی تشکیل، وفاقی حکومت کی منظوری اور تقرری کے نوٹیفکیشن کی تصدیق انتہائی ضروری ہے۔
کیونکہ بورڈ کی تشکیلِ نو کی منظوری اور اس کے تمام ارکان کی باقاعدہ تقرری و نوٹیفکیشن دو الگ مراحل ہیں۔
بزنس ریکارڈر کی حیسکو بورڈ سے متعلق رپورٹ:
اصل معاملہ: کیا یہ فیصلہ شفافیت کے تقاضے پورے کرتا ہے؟
حیسکو جیسے اہم سرکاری ادارے میں اعلیٰ انتظامی افسران کے کنٹریکٹس میں توسیع ایک معمول کا انتظامی معاملہ ضرور ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے قانونی اختیار، شفاف طریقہ کار اور میرٹ پر مبنی فیصلہ سازی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
اگر متعلقہ بورڈ مکمل قانونی حیثیت رکھتا تھا، اس کے ارکان مجاز تھے اور فیصلہ کمپنی کے منظور شدہ قواعد کے تحت کیا گیا، تو اس کی وضاحت دستاویزات کے ذریعے سامنے آنی چاہیے۔
کیوں کہ موجودہ (چار رکنی) کمیٹی حیسکو بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تمام تر سرگرمیوں، منٹس آف میٹنگ اور فیصلہ سازی کے تمام دستاویز کو پبلک کرنے کے بجائے، مکمل طور خفیہ رکھا جا رہا ہے، جس کی بنا پر چار رکنی حیسکو بورڈ آف ڈائریکٹرز کی اپنی مقرری ، اختیارات، شفافیت اور میرٹ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
لیکن اگر منظوری کسی ایسی عارضی کمیٹی نے دی جسے متعلقہ اختیارات قانونی طور پر حاصل نہیں تھے تو پھر یہ معاملہ محض ایک آفس آرڈر تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کے قانونی اثرات، انتظامی ذمہ داری اور متعلقہ افسران کی منظوری کے جواز کا باقاعدہ جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پاور ڈویژن، وزارتِ خزانہ اور حیسکو انتظامیہ سے اہم سوالات
اس تمام صورتِ حال میں وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن)، وزارتِ خزانہ، حیسکو بورڈ آف ڈائریکٹرز اور متعلقہ انتظامی حکام سے درج ذیل سوالات کے جوابات عوام کے سامنے آنے چاہئیں:
1۔ حیسکو کے موجودہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی قانونی تشکیل کا نوٹیفکیشن کہاں ہے؟
2۔ اگر چار رکنی عارضی کمیٹی قائم کی گئی تھی تو اس کے قیام کا قانونی جواز اور اختیارات کی تفصیلات کیا ہیں؟
3۔ کیا اس کمیٹی کو سی کیٹیگری افسران کے کنٹریکٹس میں دو سالہ توسیع کی منظوری دینے کا اختیار حاصل تھا؟
4۔ کیا فیض اللہ ڈاہری کی بیک وقت CFO اور قائم مقام CEO کی ذمہ داریوں کے دوران متعلقہ انتظامی فیصلوں میں مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ کا جائزہ لیا گیا؟
5۔ کیا مانجھی خان ہنگورو کے کمپنی سیکریٹری کی اضافی ذمہ داریوں اور بورڈ کے فیصلوں کی قانونی کارروائی میں ان کے کردار کی وضاحت موجود ہے؟
6۔ کیا تینوں افسران کی کارکردگی، اہلیت اور سابقہ کنٹریکٹ کی شرائط کا باقاعدہ جائزہ لے کر توسیع کی منظوری دی گئی؟
7۔ کیا بورڈ اجلاس کے مکمل منٹس، حاضری، کورم، ووٹنگ اور قرارداد کی مصدقہ نقول عوامی سطح پر جاری کی جا سکتی ہیں؟
حیسکو میں شفافیت اور جواب دہی ناگزیر ہے!
حیسکو عوامی وسائل، بجلی کے نظام اور ہزاروں ملازمین سے وابستہ ایک اہم سرکاری ادارہ ہے۔ اس ادارے میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر تقرریاں اور کنٹریکٹ میں توسیع صرف انتظامی سہولت کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانونی تقاضوں، شفافیت، میرٹ اور ادارہ جاتی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ہونی چاہیے۔
اس معاملے میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ حیسکو انتظامیہ اور پاور ڈویژن متعلقہ بورڈ کی قانونی حیثیت، اس کے اختیارات اور 29 ستمبر 2026ء کے آفس آرڈر کی منظوری سے متعلق تمام بنیادی دستاویزات سامنے لائیں۔
اگر فیصلہ قانون اور قواعد کے مطابق ہے تو اس کی دستاویزی وضاحت تمام سوالات کا جواب بن سکتی ہے، لیکن اگر اختیارات کے استعمال میں کوئی قانونی یا انتظامی بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور ذمہ داری کا تعین ضروری ہے۔
آخر حیسکو میں فیصلے قانون کے تحت ہو رہے ہیں یا عارضی انتظامی اختیارات کے ذریعے مستقل نوعیت کے فیصلے کیے جا رہے ہیں؟
یہ سوال صرف تین افسران کے کنٹریکٹ میں توسیع کا نہیں، بلکہ حیسکو کے پورے انتظامی نظام، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی خودمختاری اور سرکاری اداروں میں قانون کی بالادستی کا ہے۔
بلاگر نیوز اس معاملے پر پاور ڈویژن، حیسکو انتظامیہ اور متعلقہ حکام کا مؤقف بھی شائع کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے، تاکہ معاملے کے تمام قانونی اور انتظامی پہلو قارئین کے سامنے غیر جانب دارانہ انداز میں آ سکیں۔
اہم ادارہ جاتی حوالہ جات:
اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز ایکٹ 2023ء
وزارتِ خزانہ — SOE Governance Policy
کمپنیز ایکٹ 2017ء
ایس ای سی پی — پبلک سیکٹر کمپنیز کارپوریٹ گورننس رولز
بلاگر ادارتی نوٹ: حیسکو سی کیٹیگری افسران کی تعیناتی میں مزید دو سالہ توسیع کی منظوری سے متعلق حیسکو دستاویزات ڈاؤنلوڈ کرنے کیلے یہاں کلک کریں!


0 تبصرے
ہمیشہ یاد رکھیئے اپنی منزل کی جانب سفر میں لوگ آپ کے راستے میں پتھر بچھائیں گے۔ مگر یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ان پتھروں سے اپنے لیئے کیا بنائیں گے؟ مشکلات کی ایک دیوار یا مشکلات سے بھرپور منزل کو پار کرنے کیلئے کامیابی کی ایک پل؟ ایک نصیحت ہے کہ اپنی زندگی کو مثالی بنائیں اور کچھ ایسا کر کے دکھائیں۔ جو آپ سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو؟ زندگی کامیابی کی طرف مسلسل ایک جدوجہد کا نام ہے۔ بے حس بے مقصد اور بے وجہ زندگی کسی کام کی نہیں۔ لہٰذا سچ کی پرچار کریں، ظالم کے خلاف مظلوم کی حمایت میں ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں اور انسانیت کی خدمت کر کے اعلیٰ ظرف ہونے کا ثبوت دیں۔ یہ ہی زندگی ہے۔