Header Ads Widget

حیدرآباد: حیسکو فنڈزغبن اسکینڈل: کیا حیسکو انتظامیہ ’ایگزیکٹو افسران‘ کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے؟ اور باقی کو ٹارگیٹ!

حیدرآباد: نیوز ویب ڈیسک: 

(حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں کروڑوں روپے کے 

فنڈز کی مبینہ خورد برد کا معاملہ ایک نیا رخ اختیار کر گیا ہے۔ جہاں ایک طرف انتظامیہ نے چند اکاؤنٹس افسران کے خلاف انکوائری شروع کی ہے، وہی دوسری جانب حیسکو انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ وہ با اثر ایگزیکٹو افسران کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایف آئی اے کا مطالبہ اور حیسکو کی حکمتِ عملی

ذرائع کے مطابق، وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) نے حیسکو کے تمام آپریشن ڈویژنز میں مکمل محکمانہ انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم، یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ انتظامیہ نے ایف آئی اے کی مکمل تحقیقات سے بچنے کے لیے ایک نیا راستہ نکالا ہے۔

الزام ہے کہ حیسکو انتظامیہ نے متعدد ڈویژنز کے انجینئرز اور افسران سے مطلوبہ فنڈز کی خورد برد کی گئی رقم کی DR (Deposit Receipt) جمع کروا کر معاملے کو ’رفا دفا‘ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان ڈویژنز میں خاص طور پر درج ذیل شامل ہیں:

  • گاڑی کھاتہ ڈویژن
  • ٹنڈو محمد خان
  • کوٹڑی
  • ٹنڈو آدم اور دیگر اہم ڈویژنز۔

جرم کا اعتراف یا محض تلافی؟

اس معاملے میں ایف آئی اے کا موقف انتہائی سخت اور واضح ہے۔ وفاقی ادارے کا دعویٰ ہے کہ جن افسران نے غبن شدہ رقم کی DR جمع کروائی ہے، وہ تکنیکی اور قانونی طور پر اپنے جرم کا اعتراف کر چکے ہیں۔ قانون کی نظر میں رقم کی واپسی جرم کی نوعیت کو ختم نہیں کرتی، بلکہ اس کی تصدیق کرتی ہے۔

شفاف احتساب پر سوالیہ نشان

موجودہ صورتحال نے حیسکو کے اندر جاری احتسابی عمل کی شفافیت پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں؟ متاثرہ حلقوں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ:

  1. انتظامیہ صرف چند حیسکو اکاؤنٹس اور بینکنگ افسران کو قربانی کا بکرا بنا کر تحقیقات کا رخ موڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔
  2. ایگزیکٹو سائیڈ کے بااثر افسران، جو ان مالیاتی فیصلوں کے براہِ راست ذمہ دار تھے، انہیں دانستہ طور پر بچایا جا رہا ہے۔

حتمی صورتحال

12 جنوری 2026 کو طلب کیا گیا اجلاس اس حوالے سے انتہائی اہم ہے، تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا انکوائری کمیٹی صرف نچلے درجے کے عملے تک محدود رہتی ہے یا ایف آئی اے کے مطالبے کے مطابق ان ایگزیکٹو افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی جنہوں نے رقم جمع کروا کر بالواسطہ اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے۔

یاد رہے کہ حیسکو گاڑی کھاتہ کو اب تک ایف آئی اے انویسٹیگیشن کر رہی ہے، حیسکو لطیف آباد پر ریکوری ڈالی گئی ہے، جس کے DR بھی جمع ہو چکے ہیں، اور جبکہ حیسکو ٹنڈو محمد خان اس وقت نیب میں انڈر ٹرائل ہے!

اداریہ نوٹ: کیا حیسکو کے صارفین کا پیسہ اسی طرح کی "سیٹلمنٹ" کی نذر ہوتا رہے گا یا وفاقی وزیرِ توانائی اس جانب بھی کوئی توجہ دیں گے؟


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ
We design and display to advertise your business contents