Header Ads Widget

اسلام آباد: انرجی سیکٹر ڈسکوز کی نجکاری سے پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے خدشات - قومی تحفظ اہم یا معاشی ضرورت؟

نجکاری کی لہر: کمیونیکیشن اور انرجی سیکٹر کی فروخت—قومی سلامتی تحفظ اہم یا معاشی ضرورت؟




(تجربات، تحفظات، مشاہدات اور زمینی حقائق پر مبنی تبصروں سے بھرپور، ایک (تحقیقاتی آرٹیکل) 
پاکستان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں دہائیوں سے حکومتی کنٹرول میں رہنے والے شعبے، بالخصوص بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں
(DISCOs)، نجکاری یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں۔ پی ٹی سی ایل کی نجکاری اور جینکوز (GENCOs) کو آئی پی پیز (IPPs) کے حوالے کرنے کے تجربات ہمارے سامنے ہیں۔ اب جبکہ حیسکو (HESCO)سمیت دیگر تقسیم کار کمپنیوں کی باری ہے، تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے، کہ کیا ہم معاشی بہتری کی آڑ میں قومی سلامتی کو داؤ پر تو نہیں لگا رہے؟

نجکاری کا پس منظر اور موجودہ حکمتِ عملی

حکومتِ پاکستان اور نجکاری کمیشن کا موقف سادہ ہے: "ریاست کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ ریگولیٹ کرنا ہے۔" بجلی کے شعبے میں سالانہ اربوں روپے کا گردشی قرضہ (Circular Debt) اور لائن لاسز معیشت کے لیے ناسور بن چکے ہیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ نجی شعبہ اپنی سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان نقصانات کو کم کر سکتا ہے۔

ملکی سلامتی اور خود مختاری کے خدشات

جب ہم حساس شعبوں جیسے توانائی اور مواصلات کی بات کرتے ہیں، تو نجی کمپنیوں کا غلبہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے:

  1. ڈیٹا اور معلومات کی رازداری: مواصلات (PTCL) کا کنٹرول نجی ہاتھوں میں ہونے سے اسٹریٹجک ڈیٹا کی حفاظت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
  2. انرجی سیکیورٹی: اگر بجلی کی فراہمی مکمل طور پر نجی کمپنیوں (جو کہ اکثر بیرونی سرمایہ کاروں پر مشتمل ہوتی ہیں) کے ہاتھ میں ہو، تو ہنگامی حالات یا جنگ کی صورت میں حکومت کا کنٹرول محدود ہو سکتا ہے۔
  3. معاشی بلیک میلنگ: آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے ماضی کے معاہدے اس کی زندہ مثال ہیں جہاں حکومت "Capicity Payments" کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اور نجی کمپنیاں منافع سمیٹ رہی ہیں۔

 

کیا کوئی گارنٹی ہے؟

سچی بات یہ ہے کہ خالصتاً کاروباری دنیا میں "گارنٹی" نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، بلکہ یہ صرف "مضبوط ریگولیٹری فریم ورک" پر منحصر ہوتا ہے۔

·         نیپرا (NEPRA) کا کردار: اگر نیپرا اور پی ٹی اے جیسے ادارے آزاد اور طاقتور ہوں، تو نجی کمپنیاں من مانی نہیں کر سکتیں۔

·         سنہری حصص (Golden Shares): حکومت کو چاہیے کہ نجکاری کے باوجود اہم اسٹریٹجک فیصلوں میں ویٹو پاور اپنے پاس رکھے۔

·         مقامی سرمایہ کاری کو ترجیح: غیر ملکی کمپنیوں کے بجائے مقامی کنسورشیم کو ترجیح دینا سلامتی کے نقطہ نظر سے بہتر ہو سکتا ہے۔

نتیجہ فکر

نجکاری کوئی برائی نہیں، بشرطیکہ وہ "شفافیت" اور "قومی مفاد" کے تابع ہو۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں جیو پولیٹیکل حالات تیزی سے بدلتے ہیں، توانائی اور مواصلات جیسے شعبوں کو مکمل طور پر نجی رحم و کرم پر چھوڑنا ایک بڑا جوا ہو سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نجکاری کمیشن کے ذریعے صرف اثاثے نہ بیچے، بلکہ ایسے سخت قوانین وضع کرے جو کسی بھی بحران کی صورت میں ریاست کی بالادستی کو یقینی بنائیں۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ معاشی خودمختاری کے بغیر سیاسی خودمختاری محض ایک خواب رہ جاتی ہے۔

آئی پی پیز (IPPs) کا سنگین بوجھ: ایک تلخ تجربہ

پاکستان کے پاور سیکٹر میں آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدے آج ملک کے لیے سب سے بڑا معاشی چیلنج بن چکے ہیں۔ ان معاہدوں کے مشاہدے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جب ریاست اپنی ذمہ داری نجی شعبے کو منتقل کرتی ہے اور معاہدے میں توازن نہیں رکھتی، تو اس کا انجام کیا ہوتا ہے:

  1. کیپیسٹی پیمنٹس (Capacity Payments) کا خنجر: آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی سب سے متنازعہ شق "ٹیک اور پے" (Take or Pay) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر حکومت ان کمپنیوں سے بجلی نہ بھی خریدے، تب بھی انہیں اربوں روپے کی "کیپیسٹی پیمنٹس" ادا کرنی پڑتی ہیں۔ 2024-25 کے تخمینے کے مطابق، یہ ادائیگیاں 2000 ارب روپے سے تجاوز کر سکتی ہیں، جو براہِ راست عوام کے بجلی کے بلوں میں شامل کی جاتی ہیں۔
  2. ڈالر انڈیکسیشن (Dollar Indexation): اکثر آئی پی پیز کو ادائیگیاں ڈالر کی قیمت سے منسلک کی گئی ہیں۔ جیسے ہی ڈالر مہنگا ہوتا ہے، بجلی کی پیداواری لاگت خود بخود بڑھ جاتی ہے، چاہے ایندھن مقامی ہی کیوں نہ ہو۔ یہ ملکی معیشت کو عالمی مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے مترادف ہے۔
  3. خودمختاری پر سمجھوتہ: جب حکومت ان کمپنیوں کو ادائیگیاں کرنے میں ناکام رہتی ہے (جسے گردشی قرضہ کہا جاتا ہے)، تو یہ کمپنیاں بین الاقوامی ثالثی عدالتوں (International Arbitration) میں جانے کی دھمکی دیتی ہیں۔ یوں پاکستان اپنی ہی زمین پر لگائے گئے پلانٹس کے معاملے میں دفاعی پوزیشن پر آ جاتا ہے۔

ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (DISCOs) کے لیے سبق

اب جبکہ حکومت حیسکو (HESCO)، لیسکو اور دیگر کمپنیوں کو نجی شعبے یا پی پی پی (PPP) ماڈل پر دینے جا رہی ہے، تو وہی خدشات دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں:

  • اجارہ داری کا خوف: اگر کسی ایک بڑے گروپ کو پورے علاقے (مثلاً حیدرآباد ریجن) کی بجلی تقسیم کرنے کا اختیار دے دیا جائے، تو وہ صارفین کو اپنی قیمتوں اور سروس پر مجبور کر سکتے ہیں۔
  • ملازمین کا مستقبل: نجکاری کے عمل میں ہزاروں مقامی ملازمین کے روزگار کا تحفظ بھی ایک بڑا انسانی اور سلامتی کا مسئلہ ہے۔

حکومت کے لیے مشورہ اور حل

نجکاری کمیشن کو چاہیے کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے درج ذیل اقدامات کو یقینی بنائے:

  • کوبرا ایفیکٹ سے بچاؤ: ایسے معاہدے نہ کیے جائیں جو طویل مدت میں ریاست کے گلے کا طوق بن جائیں۔
  • مسابقت (Competition): صرف ایک کمپنی کو اجارہ داری دینے کے بجائے مارکیٹ کو مسابقتی بنایا جائے تاکہ صارف کے پاس انتخاب کا حق ہو۔
  • سخت مانیٹرنگ: نجی کمپنیوں کو کھلی چھوٹ دینے کے بجائے ان کی کارکردگی کو "پبلک سروس" کے معیار سے مشروط کیا جائے۔

نتیجہ: پاکستان کی ملکی سلامتی اس بات میں ہے کہ وہ اپنے اسٹریٹجک اثاثوں کا انتظام ایسے ہاتھوں میں دے جو صرف منافع کے پجاری نہ ہوں، بلکہ قومی ترقی میں برابر کے شراکت دار ہوں۔ اگر ڈسٹری بیوشن سیکٹر کی نجکاری بھی آئی پی پیز کی طرز پر ہوئی، تو یہ معاشی بہتری کے بجائے ایک نیا بحران ثابت ہو سکتی ہے۔

اس موضوع سے ملحقہ یہ بھی پڑھیں

اسلام آباد: بجلی کے شعبے کی نجکاری: عوامی خدشات، ملازمین کا مستقبل اور حکومت کیلئے نئے چیلنجز

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ
We design and display to advertise your business contents