Header Ads Widget

حیدرآباد: حیسکو میں کرپشن کی بہتی گنگا اور ایک آپریشن سائیڈ ایس ڈی او کی ماہانہ 'کالی کمائی' کا کچا چٹھا!

حیسکو آپریشن سب ڈویژن میں کرپشن کا جال: ایک ایس ڈی او کی ماہانہ کالی کمائی کا ہوش ربا انکشاف!

رپورٹ: نیوز ویب ڈیسک حیدرآباد
بجلی کے بحران اور بھاری بھرکم بلوں تلے دبی عوام کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کی جیبوں پر ڈاکہ صرف مہنگی بجلی سے نہیں، بلکہ محکمے کے اندر بیٹھے ان افسران کے ذریعے بھی ڈالا جا رہا ہے۔

جنہوں نے کرپشن کو ایک 'سائنس' بنا دیا ہے۔ حیسکو (HESCO) کے آپریشن سب ڈویژنز میں تعینات بعض ایس ڈی اوز (SDOs) کی کالی کمائی کے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، وہ عقل کو دنگ کر دینے والے ہیں۔

کرپشن کا 'ریٹ لسٹ' اور طریقہ واردات

ذرائع کے مطابق، ایک کرپٹ آپریشن ایس ڈی او نے اپنی سرکاری تنخواہ کو چھوئے بغیر شاہانہ زندگی گزارنے کے لیے ایک غیر اعلانیہ 'ریٹ لسٹ' مقرر کر رکھی ہے:

  • نیو کنکشنز کی بندر بانٹ: ایک عام گھریلو کنکشن پر 10 سے 20 ہزار، کمرشل پر 50 ہزار اور انڈسٹریل کنکشن پر 1 لاکھ روپے سے زائد کی رقم بطور خرچی یا 'رشوت' وصول کی جاتی ہے۔

  • میٹر چینج آرڈر (MCO): میٹر کی تبدیلی جیسے قانونی کام کے لیے بھی کمرشل اور انڈسٹریل صارفین سے ہزاروں روپے بٹورے جاتے ہیں۔

  • بجلی چوری کی سرپرستی: شہروں میں براہ راست (Direct) اے سی چلانے والے صارفین سے ماہانہ 10 ہزار روپے فی اے سی کے حساب سے وصول کر کے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا چونا لگایا جاتا ہے۔

  • بوگس بل ایڈجسٹمنٹ اور ہاؤسنگ اسکیمیں: بڑے کمرشل پلازوں اور غیر قانونی کالونیوں کو نوازنے کے عوض لاکھوں روپے کے 'نذرانے' وصول کیے جاتے ہیں۔

  • ایڈیشنل اور آگمینٹیشن ڈسٹریبیوشن ٹرانسفارمرز: اکثر بیشتر ہزاروں اور لاکھوں روپے وصول کر کے منظور کروائے اور لگوائے جاتے ہیں اور کبھی کبھی تو ان کالونیوں محلون کے نام وہ ٹرانسفارمر منظور کروا کر کسی اور جگہ لگوا کر یا پھر آٹا چکی اور فیکٹری والوں کو لاکھوں روپے کالی کمائی کے عوض بیچ دیے جاتے ہیں۔

سرکاری وسائل پر ذاتی عیاشیاں

ستم ظریفی یہ ہے، کہ ان افسران کے گھر کا کچن، گاڑیوں کا فیول، یہاں تک کہ دفتر کی چائے، سگریٹ اور پان سوپاری کا خرچہ بھی 'لائن اسٹاف' اور 'میٹرنگ سیکشن' کے کلرکوں کے ذمے ہوتا ہے جو عوام سے لوٹی گئی رقم سے ان کی 'خدمت' کرتے ہیں۔

"ایسا لگتا ہے جیسے ان افسران نے حلف اٹھا رکھا ہے کہ وہ اپنی حلال کی تنخواہ میں سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کریں گے۔"

ماہانہ کالی کمائی کا مجموعی تخمینہ

اگر ان تمام ذرائع سے ہونے والی آمدنی کو جمع کیا جائے، تو ایک اوسط درجے کی سب ڈویژن میں تعینات کرپٹ ایس ڈی او کی ماہانہ کالی کمائی کا تخمینہ تقریباً 15 لاکھ سے 25 لاکھ روپے تک بنتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ رقم انڈسٹریل اور بڑے شہری علاقوں میں اس سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

ایک لمحہ فکریہ!

اب یہاں ایک بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ: اگر ایک نچلے درجے کے آپریشن سائیڈ ایس ڈی او (SDO) کی ماہانہ کالی کمائی لاکھوں روپے ہو سکتی ہے، تو ذرا سوچیے کہ اس کے اوپر بیٹھے ہوئے بڑے بڑے اور اعلیٰ بیوروکریسی افسران اس بہتی گنگا سے کتنا حصہ وصول کرتے ہونگے؟ اور ان کے کون کون سے ذرائع ہونگے، اس کا اندازہ آپ بخود اور بخوبی لگا سکتے ہیں۔

جب تک مچھلی سر سے صاف نہیں ہوگی، تب تک نچلی سطح پر یہ کرپشن ختم ہونا ناممکن ہے۔ کیا اعلیٰ حکام اور احتسابی ادارے حیسکو میں جاری اس لوٹ مار کا نوٹس لیں گے؟

 #HESCO_Corruption #SindhNews #UrduBlogger #PowerTheft #Accountability #HESCO #ElectricityMafia

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ
We design and display to advertise your business contents