حیسکو میں آؤٹ سورسنگ کے نام پر 'خفیہ' بھرتیاں: شفافیت پر سوالیہ نشان!
ویب ڈیسک: (خفیہ رپورٹ)
Controversy recruitment in HESCO exposed
کیا آؤٹ
سورسنگ کے پیچھے کوئی "مخصوص" ایجنڈا ہے؟
بزنس ریکارڈر کی 16 اکتوبر 2025 کی
رپورٹ کے مطابق، پاور ڈویژن نے ڈسکوز کو تھرڈ پارٹی کے ذریعے اسٹاف ہائر کرنے کی
اجازت دی تھی۔ اس پالیسی کے تحت حیسکو نے پہلی بار کمرشل اسسٹنٹس کی بھرتی کے لیے
الفاروق انٹرپرائزز کا انتخاب کیا۔ اب خبریں گردش کر رہی ہیں کہ لائن اسٹاف و (ٹیکنیکل اسٹاف) جیسے اسسٹنٹ لائن مین کی اہم
بھرتیاں بھی اسی کمپنی کے سپرد کی جا رہی ہیں۔
یہاں چند سنگین سوالات جنم لیتے ہیں
جن کا جواب حیسکو انتظامیہ پر قرض ہے:
- صرف
الفاروق انٹرپرائزز ہی کیوں؟
بڈنگ کے عمل میں درجنوں کمپنیاں شامل ہوتی ہیں، لیکن حیسکو کی نظرِ کرم مسلسل
الفاروق انٹرپرائزز پر ہی کیوں ہے؟ اس کمپنی کی ملکیت، اس کا ٹریک ریکارڈ اور
حیسکو حکام کے ساتھ اس کے "خصوصی تعلقات" اب بحث کا موضوع بن چکے
ہیں۔
- ٹیسٹ اور فائنل انٹریوز حیسکو لے رہا ہے تو تھرڈ پارٹی کا کیا کام؟ اگر ٹیسٹ اور انٹرویوز حیسکو کا اپنا ایچ آر (HR) اور ایڈمن ڈپارٹمنٹ کر رہا ہے،
تو پھر درمیان میں "الفاروق انٹرپرائزز" کو کمیشن دینے کا کیا جواز
ہے؟ کیا یہ قومی خزانے پر بوجھ ڈالنے اور کسی مخصوص گروہ کو فائدہ پہنچانے کا
طریقہ نہیں؟
- اشتہار
اور پبلک نوٹس کہاں ہیں؟
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور واپڈا کے قوانین کے مطابق، کسی بھی سرکاری یا نیم
سرکاری ادارے میں بھرتی کے لیے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں اشتہار دینا
لازمی ہے۔ حیسکو میں ہونے والی یہ "خفیہ بھرتیاں" عوام سے کیوں
چھپائی جا رہی ہیں؟ کیا یہ میرٹ کا قتلِ عام اور سیاسی سفارشات کا نیا ورژن
ہے؟
قانون کیا
کہتا ہے؟
پاکستان کے قوانین اور سپریم کورٹ کے
مختلف فیصلوں کے مطابق، عوامی اداروں میں بھرتی کا عمل شفاف، عوامی اور مساویانہ
ہونا چاہیے۔ کسی بھی بھرتی کو خفیہ رکھنا نہ صرف بدنیتی پر مبنی ہے بلکہ یہ آئین
کے آرٹیکل 18 (تجارت اور ملازمت کی آزادی) اور میرٹ کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی
ہے۔
شفافیت کا
مطالبہ
یہ عمل واضح طور پر مشکوک دکھائی دیتا
ہے۔ اگر یہ بھرتیاں میرٹ پر ہیں تو انہیں پبلک کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا "آؤٹ
سورسنگ" اب کرپشن اور رشوت ستانی کا نیا نقاب بن چکی ہے؟
حیدرآباد سمیت سندھ کے عوام اور حق دار امیدوار یہ مطالبہ کرتے ہیں:
- الفاروق
انٹرپرائزز کے ساتھ کیے گئے تمام معاہدوں کو پبلک کیا جائے۔
- لائن
اسٹاف کی بھرتی کے لیے باقاعدہ اشتہار جاری کیا جائے، تاکہ ہر شہری کو برابر
کا حق اور موقع مل سکے۔
- ایف
آئی اے (FIA)
اور نیب (NAB) جیسے
ادارے ان "خفیہ بھرتیوں" کے پیچھے چھپے کرداروں کا تعین
کریں۔
حیسکو انتظامیہ کو یاد رکھنا چاہیے، کہ قومی اور عوامی ادارے کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہوتے۔ شفافیت کی عدم موجودگی میں اٹھنے والے
یہ سوالات کل ایک بڑے احتجاجی مجمعے اور قانونی کاروائی کا پیش خیمہ
ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس سے بڑھ کر فکر کی بات یہ ہے کہ یہ سب حیسکو میں اپنا لیبر راج قائم کرنے والی پیغام اور ہائیڈرو یونین کے مرکزی عہدیداران کی آںکھوں کے بلکل سامنے ہو رہا ہے، مگر ان کی آنکھیں نیچے اور زباں خاموش دکھائی دیتی ہیں۔
تاہم حیسکو انتظامیہ کے اس غیرقانونی عمل سے حیسکو سربراہ یعنی چیف ایگزیکٹو آفیسر کی ساکھ شدید متاثر ہو سکتی ہے اور حسیکو میں ان کا یہ مشکوک کردار بہت سارے سوالات اور ردِعمل کو جنم دے سکتا ہے، کہ وہ اندھیروں سے روشنیوں کا سفر کرتے ہوئے، حیسکو کو خفیہ کرپشن کے اندھے گڑھے میں دھکیلنے میں مصروف عمل ہیں، جس میں کبھی وہ خود بھی گر سکتے ہیں!
آپ اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ کیا آؤٹ سورسنگ کے نام پر یہ بھرتیاں جائز ہیں؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔


0 تبصرے
ہمیشہ یاد رکھیئے اپنی منزل کی جانب سفر میں لوگ آپ کے راستے میں پتھر بچھائیں گے۔ مگر یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ان پتھروں سے اپنے لیئے کیا بنائیں گے؟ مشکلات کی ایک دیوار یا مشکلات سے بھرپور منزل کو پار کرنے کیلئے کامیابی کی ایک پل؟ ایک نصیحت ہے کہ اپنی زندگی کو مثالی بنائیں اور کچھ ایسا کر کے دکھائیں۔ جو آپ سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو؟ زندگی کامیابی کی طرف مسلسل ایک جدوجہد کا نام ہے۔ بے حس بے مقصد اور بے وجہ زندگی کسی کام کی نہیں۔ لہٰذا سچ کی پرچار کریں، ظالم کے خلاف مظلوم کی حمایت میں ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں اور انسانیت کی خدمت کر کے اعلیٰ ظرف ہونے کا ثبوت دیں۔ یہ ہی زندگی ہے۔