بلاگر نیوز مانیٹرنگ: ویب ڈیسک حیدرآباد
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے
صارفین اور متعلقہ حکام کی توجہ ایک سنگین معاملے کی جانب مبذول کروانا مقصود ہے۔ فراہم کردہ دستاویز (ٹیگ) کے مطابق، سابقہ چیف ایگزیکٹو آفیسر نور احمد سومرو کے دور میں 2022 میں بھاری مقدار میں 120 SQ MM (3-Core) Copper Armoured Cable خریدی گئی۔
🔍 حقائق کیا کہتے ہیں؟
- خریداری کا وقت: جون 2022 (ورک آرڈر نمبر: 03-03450)
- موجودہ صورتحال: یہ مہنگی ترین کیبل گذشتہ 4 سالوں سے حیدرآباد، نوابشاہ، میرپورخاص اور سانگھڑ کے ریجنل اور فیلڈ اسٹورز میں بلا ضرورت پڑی دھول چاٹ رہی ہے۔
- صرف نوابشاہ ریجنل اسٹور میں ایسے 15 سے زائد ڈرم موجود ہیں جن کا کوئی استعمال نہیں کیا گیا۔
💰 مالی نقصان کا تخمینہ (Estimating the Loss):
مارکیٹ ریسرچ کے مطابق، 120 SQ MM کی تھری کور کاپر کیبل کی موجودہ قیمت تقریباً 18,000 سے 22,000 روپے فی میٹر (معیار کے لحاظ سے) ہے۔
- ایک ڈرم کی لمبائی تقریباً 500 میٹر ہے۔
- صرف ریجنل اسٹور حیسکو نوابشاہ کے 15 ڈرموں کی مالیت آج کے ریٹ کے مطابق تقریباً 13 کروڑ سے 15 کروڑ روپے بنتی ہے۔
- پورے ریجن (حیدرآباد، سانگھڑ وغیرہ) کے اسٹورز کو ملا کر یہ نقصان اربوں روپے تک جا پہنچتا ہے۔
⚠️ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ:
- جب اس کیبل کی ضرورت ہی نہیں تھی تو عوامی پیسے کا اتنا بڑا زیاں کیوں کیا گیا؟
- کیا یہ خریداری صرف "کمیشن اور رشوت" کے حصول کے لیے کی گئی تھی؟
- کیا وفاقی وزیر توانائی اور نیپرا (NEPRA) اس کھلی کرپشن پر خاموش رہیں گے؟
مطالبہ: ⚖️
ہم مطالبہ کرتے ہیں، کہ سابقہ سی ای او حیسکو نور احمد سومرو سے اس غیر ضروری خریداری پر سخت باز پرس کی جائے اور حیسکو کے خزانے کو پہنچنے والے اس اربوں روپے کے نقصان کا حساب لیا جائے۔ قومی اثاثوں کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھانے والوں کا کڑا احتساب وقت کی ضرورت ہے!


0 تبصرے
ہمیشہ یاد رکھیئے اپنی منزل کی جانب سفر میں لوگ آپ کے راستے میں پتھر بچھائیں گے۔ مگر یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ان پتھروں سے اپنے لیئے کیا بنائیں گے؟ مشکلات کی ایک دیوار یا مشکلات سے بھرپور منزل کو پار کرنے کیلئے کامیابی کی ایک پل؟ ایک نصیحت ہے کہ اپنی زندگی کو مثالی بنائیں اور کچھ ایسا کر کے دکھائیں۔ جو آپ سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو؟ زندگی کامیابی کی طرف مسلسل ایک جدوجہد کا نام ہے۔ بے حس بے مقصد اور بے وجہ زندگی کسی کام کی نہیں۔ لہٰذا سچ کی پرچار کریں، ظالم کے خلاف مظلوم کی حمایت میں ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں اور انسانیت کی خدمت کر کے اعلیٰ ظرف ہونے کا ثبوت دیں۔ یہ ہی زندگی ہے۔