Header Ads Widget

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کے اجلاس سے سیکرٹری پیٹرولیم درمیان میں اٹھ کر چلے گئے

 ویب ڈیسک اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کے اجلاس سے سیکرٹری پیٹرولیم درمیان میں اٹھ کر چلے گئے، کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر محمد ادریس نے کہاکہ ہم کراچی سے اس میٹنگ کیلئے آئے ہیں، سیکرٹری پیٹرولیم اجلاس میں نہیں ہوں گے تو ہم اپنی بات کس کو بتائیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کا اجلاس محمد عبدالقادر کی زیر صدارت جاری ہے، اجلاس میں وزیر مملکت پیٹرولیم مصدق ملک، سیکرٹری پیٹرولیم علی رضا بھٹہ ، چیئرمین اوگرا مسرور خان ، ڈی جی گیس عبدالرشید جوکھیو ، کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر محمد ادریس اور جنرل سیکریٹری اے کیو خلیل کے علاوہ کراچی چیمبر آف کامرس بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا بھی شریک ہیں۔


مصدق ملک وزیر مملکت برائے پیٹرولیم نے اجلاس میں کہا کہ حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو ریگیولیٹ کرتی ہے،ہم پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں پیٹرول پمپس کے درمیان مسابقت چاہتے ہیں۔

رکن کمیٹی رخسانہ زبیری نے کہاکہ ملک میں گھٹیا معیار کا پیٹر ول فروخت ہو رہا ہے، گھٹیا تیل کے فروخت کی وجہ سے سانس کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔

مصدق ملک نے بتایا کہ ایران سے بہت تیل پاکستان اسمگل ہو رہا ہے، ایرانی اسمگل شدہ تیل سستا ہوتا ہے، سیکرٹری پیٹرولیم علی رضا بھٹہ نے کہا کہ اسمگلنگ جرم ہے

وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق مِلک نے بتایا کہ روس کے ساتھ پاکستان کا تیل خریدنے کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا، سابق وزیر توانائی نے روس سے تیل خریداری کیلئے ایک خط ضرور لکھا تھا۔

مصدق ملک نے کہاکہ ملک میں مقامی گیس پیداوار کم ہو تی جارہی ہے، ایل این جی بہت زیادہ مہنگی ہے، ہم نے غریب آدمی کو بھی بچانا ہے۔

چیئر مین اوگرا مسرور خان نے اجلاس میں کہا کہ گیس کی قیمت میں اضافہ نہ کرکے کمپنیوں پر دباؤ بڑھا،سیکریٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ اب قوانین میں ترامیم ہو چکی ہیں، قانوناً حکومت نے اوگرا تجویز پر گیس کی قیمت نہ بڑھائی تو 40 دن میں قیمت خود بخود بڑھ جائیگی۔


کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر محمد ادریس نے بتایا کہ کراچی کی صنعت کو گیس کی بندش اور قلت کا سامنا ہے،کراچی ملک کا 57 فیصد ٹیکس دیتا ہے، ملک کی 54 فیصد برآمدات کراچی سے ہیں،ہمارے ساتھ جو گزشتہ ایک سال میں ہوا کبھی نہیں ہوا ،ہم پر گیس کی چوریاں ڈالی گئیں۔

محمد ادریس کا کہنا تھا کہ پچھلے سیکریٹری پیٹرولیم کو کراچی گیس معاملات پر بریفنگ دی، بعد میں سیکریٹری پیٹرولیم سے رابطہ ہی کرتے رہ گئے، کوئی جواب نہ ملا۔

انہوں نے بتایا کہ سوئی سدرن کمپنی کراچی کی صنعتوں کو پانچ ماہ سے گیس نہیں دے رہی، سیکرٹری صاحب بات مانتے ہیں لیکن عملدر آمد نہیں کرتے،اس موقع پر سیکرٹری پیٹرولیم اجلاس کے دوران اٹھ کر چلے گئے اور وجہ بتائی کہ مجھے ایک اہم میٹنگ میں جانا ہے رک نہیں سکتا۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر محمد ادریس نے جواب میں کہا کہ ہم کراچی سے اس میٹنگ کیلئے آئے ہیں، سیکرٹری پیٹرولیم اجلاس میں نہیں ہوں گے تو ہم اپنی بات کس کو بتائیں، چیئرمین کمیٹی عبدالقادر نے کہا کہ وزیر مملکت اجلاس میں موجود ہیں آپ اپنی بات کریں۔

کراچی چیمبر آف کامرس بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے کہاکہ سابق حکومت کے وعدے کے مطابق بر آمدی شعبے کو ساڑھے 6 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو پر گیس نہ ملی، ہمیں 15 ڈالر پر یہ گیس مل رہی ہے، دنیا میں کہاں گیس فراہمی میں گھریلو سیکٹر پہلے نمبر پر ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ پاکستان میں کھاد پر سبسڈی دی جا رہی ہے، پاکستان سے یہ کھاد افغانستان اسمگل ہو رہی ہے۔

زبیر موتی والا نے مطالبہ کیا کہ سوئی سدرن کراچی کے صنعتی شعبے سے معافی مانگے، ہم پر گیس چوری کا لیبل لگایا گیا، عدالت میں کوئی گیس چوری ثابت نہ ہوئی، گیس کے کم دباؤ کا حل نکالا جائے، سوئی سدرن ہماری صنعتوں پر حملہ آور ہو تی ہے، اگر کسی کو گیس پر سبسڈی دینی ہےتو حکومت اپنے پاس سے دے، گیس سبسڈی ہم پر نہ ڈالی جائے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ
We design and display to advertise your business contents