حیسکو ٹاپ مینجمنٹ کے خلاف ایف آئی اے کی انکوائری: میرٹ اور سینیارٹی کی دھجیاں اڑانے کا سنسنی خیز انکشاف!
خصوصی انویسٹیگیٹو بلاگ پوسٹ — بیورو رپورٹ زمرہ: ادارہ جاتی کرپشن / پاور سیکٹر
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) جو پہلے ہی اپنے ناقص انتظام اور بجلی کی غیر منصفانہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے اس وقت عوام کے شدید عتاب کا شکار ہے، اب ایک اور سنگین اور سنسنی خیز اسکینڈل کی زد میں آ چکی ہے۔ حیسکو کی ٹاپ مینجمنٹ کے 06 اعلیٰ ترین افسران، بشمول حیسکو چیف ایگزیکٹو آفیسر فیض اللّٰہ ڈاہری، کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کرائم سرکل حیدرآباد نے باقاعدہ انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ شکایت کسی بیرونی شخص نے نہیں، بلکہ حیسکو کے اپنے ہی ایک نڈر افسر (SDO) (آپریشن) محمد اویس میمن نے درج کروائی ہے، جس نے ادارے کے اندرونی گند کو چوراہے پر لا کھڑا کر دیا ہے اور حیسکو انتظامیہ کے کالے کارناموں کا پورا چٹھہ کھول کر رکھ دیا ہے۔
انکوائری کا پس منظر اور آفیشل لیٹر کے حقائق:
حاصل شدہ دستاویزات کے مطابق، ایف آئی اے کرائم سرکل حیدرآباد کے انسپکٹر رمیش کمار کی جانب سے سپیشل جج اینٹی کرپشن (سینٹرل) حیدرآباد کی معزز عدالت کے خصوصی احکامات پر ایک باقاعدہ انکوائری نمبر SPL: ENQ-05/2026 درج کی ہے۔ اس انکوائری کے تحت حیسکو کے ڈائریکٹر جنرل (ADMN/HR) کو ایک انتہائی سخت نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس میں حیسکو قیادت پر اختیارات کے ناجائز استعمال، پروموشن پالیسی کی سنگین خلاف ورزیوں، اور مبینہ رشوت ستانی کے ہولناک الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
کرپشن گٹھ جوڑ: کون کون سے بڑے نام زد میں ہیں؟
ایف آئی اے: نوٹس کے مطابق، حیسکو کی سینیارٹی اور میرٹ کی دھجیاں اڑانے والے مبینہ ملزمان میں درج ذیل ٹاپ مینجمنٹ کے حیسکو انجنیئرز و ایڈمن افسران شامل ہیں:
فیض اللّٰہ ڈاہری — چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) / CFO حیسکو
شفیق احمد میمن — ڈائریکٹر جنرل (HR & Admin)
ذکی مختیار — چیف کمرشل آفیسر (CCO)
مختیار احمد میمن — ڈپٹی مینیجر ہیومن ریسورسز
رشید احمد — ڈپٹی مینیجر کیریئر مینجمنٹ، حیسکو حیدرآباد
سنسنی خیز الزامات کا خلاصہ:
مبلغ 15 لاکھ روپے رشوت کا مطالبہ اور انتقامی کارروائیاں:
شکایت کنندہ ایس ڈی او محمد اویس میمن کے الزامات محض سفارشی ترقیاں دینے تک محدود نہیں، بلکہ اس میں مالی بدعنوانی اور بلیک میلنگ کا کٹھا چٹھا کھولا گیا ہے۔ الزامات کا خلاصہ درج ذیل اہم ترین پہلوؤں پر مشتمل ہے:
پروموشن سے غیر قانونی محرومی:
شکایت کنندہ تمام تر اہلیت، اسامی کی موجودگی اور رسمی سفارشات کے باوجود سینیارٹی لسٹ میں نظر انداز کیا گیا اور اس کی وجہ بھی ریکارڈ پر نہیں لائی گئی، جو بدنیتی (Mala fide intent) اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو ظاہر کرتا ہے۔
مبلغ 15 لاکھ روپے رشوت کا مطالبہ: دستاویزی حقائق کے مطابق، حیسکو ڈائریکٹر جنرل (HR & Admin) شفیق احمد میمن پر الزام ہے، کہ انہوں نے پروموشن کے عوض مبلغ 15 لاکھ روپے رشوت کا مطالبہ کیا۔ رشوت دینے سے انکار پر مذکورہ افسر کو پروموشن کے عمل سے ہی باہر کر دیا گیا۔
حیسکو قوانین میں ردوبدل کر کے من پسند ترقیاں دینے کا الزام:
حیسکو کے ان افسران کو ترقیاں دی گئیں جو پہلے سے ہی سنگین انکوائریوں کا سامنا کر رہے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ ایک غیر اہل افسر جس کے پاس مکینیکل (Mechanical) کی ڈگری تھی، اسے الیکٹریکل / الیکٹرانکس کوٹے پر ٹیکنیکل پوسٹ پر تعینات کر کے نوازا گیا، جو اقربا پروری کی انتہا ہے۔
انتقامی کارروائیاں اور ہراساں کرنا:
جب شکایت کنندہ نے اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی، تو حیسکو ٹاپ مینجمنٹ نے مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اسے دھمکیاں دیں، ہراساں کیا، اور بغیر کسی قانونی ضابطے کے معطل (Suspended) کر دیا۔ بعد ازاں ایک یکطرفہ اور جانبدارانہ انکوائری کمیٹی قائم کی گئی تاکہ آواز اٹھانے والے کو نشانہ بنایا جا سکے۔
ایف آئی اے کا حیسکو انتظامیہ پر شکنجہ سخت: 3 دن کی مہلت
ایف آئی اے نے معاملے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے حیسکو انتظامیہ کو محض 03 روز کے اندر اندر 13 اہم ترین رکارڈز پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ طلب کیے گئے ریکارڈ کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
01-08-2025 کو ہونے والے پروموشن بورڈ کی مکمل کارروائی، منٹس آف میٹنگ، Evaluation Criteria اور پروموشن نوٹیفکیشنز۔
شکایت کنندہ کو پروموشن سے روکنے/ملتوی کرنے کی وجوہات: فائل موومنٹ شیٹس اور شکایت کنندہ کی جانب سے دی جانے والی اپیلیں اور ان پر کیا گیا ایکشن۔
موجودہ پروموشن سائیکل میں ترقی پانے والے تمام افسران کا میرٹ رکارڈ اور اس مکینیکل کوالیفکیشن والے افسر کا سروس رکارڈ جسے الیکٹریکل کوٹے پر نوازا گیا۔
حیسکو آفیسرز سروس رولز 2022، پرفارمنس مینجمنٹ پالیسی 2022، اور شکایت کنندہ کی معطلی و محکمانہ انکوائری کا مکمل رکارڈ۔
سال 2020 سے 2025 تک کی تصدیق شدہ سینیارٹی لسٹیں۔
تبصرہ اور تجزیہ: سی ای او حیسکو ڈاہری صاحب کا "فیض" یا میرٹ کا جنازہ؟
بلاگر نیوز کے قارئین! اس انکوائری کے مندرجات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے، کہ حیسکو میں میرٹ، اقربا پروری اور سینیارٹی کا جنازہ کس بیدردی سے نکالا جا رہا ہے؟ موجودہ چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) حیسکو فیض اللّٰہ ڈاہری اور ان کے گٹھ جوڑ کا "فیض" صرف ان چہیتوں کے لیے جاری ہے جو مبینہ طور پر انتظامی عہدوں کا فائدہ اٹھا کر اوپر تک مال پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، معاملے کو رِفع دفع کرنے اور ایف آئی اے کی نظروں سے اوجھل کرنے کے لیے سی ای او حیسکو ڈاہری نے انتہائی چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، شکایت کنندہ ایس ڈی او اویس میمن کو فی الحال ایک "لولی پاپ" دیتے ہوئے ٹریننگ پر روانہ کر دیا، تاکہ پریشر کم کیا جا سکے، لیکن ایف آئی اے کے اس آفیشل نوٹس نے حیسکو کی اعلیٰ قیادت کے چہرے سے شرافت کا نقاب نوچ دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے، کہ وفاق کا یہ مایہ ناز تحقیقاتی ادارہ اس ہائی پروفائل کرپشن کیس کو منطقی انجام تک پہنچاتا ہے یا حیسکو کے یہ با اثر افسران ایک بار پھر قانون کو موم کی ناک بنا کر بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
بشکریہ: انویسٹیگیٹو جرنلزم نیٹ ورک — حیسکو کرپشن ڈائریز 2026




0 تبصرے
ہمیشہ یاد رکھیئے اپنی منزل کی جانب سفر میں لوگ آپ کے راستے میں پتھر بچھائیں گے۔ مگر یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ان پتھروں سے اپنے لیئے کیا بنائیں گے؟ مشکلات کی ایک دیوار یا مشکلات سے بھرپور منزل کو پار کرنے کیلئے کامیابی کی ایک پل؟ ایک نصیحت ہے کہ اپنی زندگی کو مثالی بنائیں اور کچھ ایسا کر کے دکھائیں۔ جو آپ سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو؟ زندگی کامیابی کی طرف مسلسل ایک جدوجہد کا نام ہے۔ بے حس بے مقصد اور بے وجہ زندگی کسی کام کی نہیں۔ لہٰذا سچ کی پرچار کریں، ظالم کے خلاف مظلوم کی حمایت میں ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں اور انسانیت کی خدمت کر کے اعلیٰ ظرف ہونے کا ثبوت دیں۔ یہ ہی زندگی ہے۔