حیسکو کا بجلی بحران: بغیر بورڈ آف ڈائریکٹرز اور ناقص انتظام،
عوام 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا عذاب برداشت کرنے پر مجبور!
حیدرآباد: حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) گزشتہ ایک سال سے ایک ایسے سنگین انتظامی بحران کا شکار ہے جس کی قیمت خطے کے کروڑوں صارفین بھگت رہے ہیں۔ کمپنی کا بورڈ آف ڈائریکٹرز فعال نہ ہونے کی وجہ سے ادارے کے امور میں شفافیت اور فیصلہ سازی کا فقدان نظر آ رہا ہے، جس کے براہ راست اثرات بجلی کی فراہمی پر مرتب ہوئے ہیں۔
آپریشنل مینجمنٹ کی ناکامی اور عوامی مسائل
سابقہ چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد روشن اوٹھو کی ریٹائرمنٹ کے بعد، کمپنی کی بھاگ دوڑ عارضی طور پر چیف فنانشل آفیسر فیض اللہ ڈاہری کے سپرد کی گئی۔ اگرچہ سال 2025 میں ان کی کارکردگی کو ایک حد تک تسلی بخش قرار دیا گیا تھا، تاہم سال 2026 حیسکو انتظامیہ کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہوا ہے۔
عوامی حلقوں اور فیلڈ رپورٹس کے مطابق، موجودہ انتظامی سربراہ کا نان ٹیکنیکل پس منظر آپریشنل مینجمنٹ کو چلانے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہے۔ اس کا نتیجہ حیدرآباد ریجن میں 16 سے 18 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ اور فیڈر فالٹس کی صورت میں نکلا ہے، جس نے معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
کرپشن اور ناقص کارکردگی کے خلاف احتجاج
عوامی سروے اور زمینی حقائق ایک تشویشناک تصویر پیش کرتے ہیں:
ٹرانسفارمرز کا بحران: شہر بھر میں گلی محلوں میں ٹرانسفارمر جلنے کی شکایات عام ہیں، جنہیں بروقت تبدیل نہ کرنا انتظامی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
بدعنوانی کے الزامات: صارفین کی جانب سے رشوت خوری اور بوگس ڈٹیکشن (فیک ریڈنگ/بلنگ) کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
عوامی غم و غصہ: حیسکو کی کارکردگی کے خلاف مختلف مقامات پر شدید احتجاج کیے جا رہے ہیں، جس میں صارفین نے انتظامیہ کی تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔
کیا حکومتِ پاکستان نوٹس لے گی؟
سوال یہ ہے کہ کیا وفاقی کابینہ اور وزارتِ توانائی جون 2026 کے بعد بھی حیسکو کو اسی 'عارضی' بندوبست کے تحت چلنے دے گی؟ ایک ایسا ادارہ جس پر پورے خطے کا انحصار ہو، اسے بغیر مستقل بورڈ آف ڈائریکٹرز اور پیشہ ورانہ ٹیکنیکل مینجمنٹ کے چھوڑنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
عوامی حلقے اب وفاقی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ:
مستقل تعیناتی: حیسکو کے لیے ایک ایماندار، تجربہ کار اور ٹیکنیکل پس منظر کے حامل مستقل چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری کی جائے۔
بورڈ آف ڈائریکٹرز کی بحالی: کمپنی کے معاملات کی نگرانی کے لیے فوری طور پر ایک فعال اور بااختیار بورڈ آف ڈائریکٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے۔
احتساب: بوگس ڈٹیکشن اور رشوت خوری میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرکے ادارے کا وقار بحال کیا جائے۔
حیسکو کے صارفین اب اس انتظار میں ہیں کہ کیا حکومتِ وقت عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گی یا یہ ادارہ اسی طرح بدانتظامی کی نذر ہوتا رہے گا؟
آپ اس حوالے سے کیا سوچتے ہیں؟ کیا آپ کے علاقے میں بھی حیسکو کی لوڈشیڈنگ اور بدانتظامی نے آپ کا جینا حرام کر دیا ہے؟ اپنی رائے ہے کمنٹس سیکشن میں ضرور شیئر کریں۔
نوٹ: یہ بلاگ پوسٹ عوامی شکایات اور دستیاب معلومات کے تجزیے پر مبنی ہے۔


0 تبصرے
ہمیشہ یاد رکھیئے اپنی منزل کی جانب سفر میں لوگ آپ کے راستے میں پتھر بچھائیں گے۔ مگر یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ان پتھروں سے اپنے لیئے کیا بنائیں گے؟ مشکلات کی ایک دیوار یا مشکلات سے بھرپور منزل کو پار کرنے کیلئے کامیابی کی ایک پل؟ ایک نصیحت ہے کہ اپنی زندگی کو مثالی بنائیں اور کچھ ایسا کر کے دکھائیں۔ جو آپ سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو؟ زندگی کامیابی کی طرف مسلسل ایک جدوجہد کا نام ہے۔ بے حس بے مقصد اور بے وجہ زندگی کسی کام کی نہیں۔ لہٰذا سچ کی پرچار کریں، ظالم کے خلاف مظلوم کی حمایت میں ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں اور انسانیت کی خدمت کر کے اعلیٰ ظرف ہونے کا ثبوت دیں۔ یہ ہی زندگی ہے۔