Header Ads Widget

حیدرآباد: حیسکو اکاؤنٹس فراڈ اینڈ کرپشن اسکینڈل حیسکو ہیڈکوارٹر میں کتنا فراڈ ہوا؟ یہ انکوائری کہاں دب گئی؟

بلاگر نیوز مانیٹرنگ ویب ڈیسک: حیدرآباد

بلاگر نیوز کو موصول ہونے والی انفارمیشن کے مطابق: 

چیئرمن  حیسکو بورڈ آف ڈائریکٹرز کے مشترکہ فیصلے کی روشنی میں، حیسکو بی او ڈی کے مورخہ: 18 اگست 2023 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق: سابقہ حیسکو بورڈ آف ڈائریکٹر ملک امتیازالحق کو حیسکو ملازمین کی تنخواہوں و دیگر فنڈز میں ہیراپھیری کرنے، ڈبل ڈران اور Excess ایڈیشنل اماؤنٹ ڈیمانڈ جاری کرنے سے متعلق حیسکودفاتر کے DDO افسران کو رقم منتقل کرنے سے متعلق ایک (ہائی پروفائل انکوائری) سونپ دی گئی۔ جس میں ملک امتیاز الحق کو انکوائری کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا۔

 ملک امتیاز الحق کی جانب سے 02 ستمبر 2023 کو یعنی صرف 15 دن کے اندر اپنی انکوائری رپورٹ چیئرمن حیسکو بورڈ آف ڈائریکٹرز کے حوالے کی۔ جس میں حیران کن انکشافات سامنے آئے! جس کے بعد اس انکوائری پیپرز کی بناں پر بات مزید آگے بڑھتی گئی، نیب، ایف آئی اے اور آخرکار اینٹی کرپشن کورٹ حیدرآباد تک جا پہنچی ۔

لہذا اس انکوائری رپورٹ میں حیسکو کے ڈرپارٹمینٹل وائز تقریباً تمام یونٹس کی ڈیٹا Compile کر کے FD اور MIS کے فگرز کو جب میچ کیا گیا، تو حیران کن نتائج سامنے آئے اور ایک سوچی سمجھی سازش یا پھر ایک بنی بنائی منصبوبہ بندی کے تحت ابتدائی طور، صرف حیسکو کی چار ڈویژن: آپریشن ڈویژن حیسکو قاسم آباد، عمرکوٹ، نوابشاھ اور سانگھڑ کو ٹارگیٹ کیا گیا اور اس اسکینڈل میں ملوث آپریشن انجنیئرز سمیت، آڈٹ، اکاؤنٹس اور فنانس کے متعلقہ افسران کے خلاف تحقیقات کرکے ایف آئی اے کی جانب سے حیسکو ملازمین کی تنخواہوں و دیگر فنڈز میں ہیراپھیری اور کرپشن الزامات کی بناں پر چار ایف آئی آرز درج کردی گئیں اور اسکینڈل میں شامل بینک عملے سمیت دیگر کے خلاف ایف آئی آرز درج کر دی گئیں، اور جبکہ بینک عملہ اس وقت کنفرم بیل پر ہے، مگر ایف آئی اے انویسٹیگیشن افسر کی جانب سے طلب کرنے پر وہ انکوائری افسر کے سامنے پیش ہونے کے پابند ہیں۔ بینک عملے کے متعلقہ وکیل نے یہ مؤقف اپنایا تھا، کہ بینک عملے کی جیل کسٹڈی سے بینک کا کام ڈسٹرب ہو رہا ہے، تو کیا حیسکو افسران کے جیل جانے سے حیسکو انتظامیہ کا کام ڈسٹرب نہیں ہوا، اور کیا سارا بینک عملہ ایک ہی جگہ پر تعینات تھا، مگر پھر بھی بینک عملے کی کنفرم بیل ہو چکی ہے۔ اب یہ کیس اسپیشل جج اینٹی کرپشن کورٹ حیدرآباد کی عدالت میں اس وقت (انڈر ٹرائل) ہے۔

ملک امتیاز الحق کی انکوائری رپورٹ: ذرائع کے مطابق 28 پیجوں پر مشتمل ہے، جس میں حیسکو ہیڈکوارٹر: میں ایڈیشنل ڈیمانڈز کا معاملہ سامنے آیا ہے، جو 2020 سے لیکر 2022 تک 216.54 ملین یعنی تقریباً 21 کروڑ روپے سے بھی زائد کی رقم بنتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے، کہ پورے آپریشن ڈویژنوں میں اس وقت بھی انکوائریز چل رہی ہیں۔ جبکہ حیسکو ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے 21 کروڑ روپے سے زائد رقم سے متعلق مزید کوئی ڈپارٹمینٹل انکوائری: نہ ہوئی اور نہ ہونے دی گئی۔ بلکہ ملک امتیاز الحق کی انکوائری رپورٹ سے اپنی مرضی کی ڈپارٹمینٹل انکوائریاں کروا کر صرف اور صرف آپریشن ڈویژنوں اور خاص طور DDOs  اور اکاؤنٹس افسران کو ٹارگیٹ کیا گیا، جو ایک بد نیتی پر مبنی منصوبہ بندی اور سازش ہو سکتی ہے۔

لہٰذا حیسکو (ہیڈکوارٹر) سے منسلک تمام دفاتر کی اکاؤنٹس انکوائری: 

01۔ سابقہ حیسکو بورڈ آف ڈئریکٹر: مک امتیاز الحق کی انکوائری کے مطابق: صرف چیف آفیس کی تنخواہوں میں ہی 03 سالوں کے دوران یعنی 2020 سے لیکر 2022 تک 21 کروڑ روپے کا فرق سامنے آیا ہے۔

02۔ آپریشن ڈویژن کی انکوائریز کو پروان چڑھانے اور وفاقی ایجنسی کو آپریشن افسران کی ڈیٹا شیئر کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کرنے والے حیسکو ڈائریکٹر جنرل (ایچ آر اینڈ ایڈمن) شفیق میمن نے حیسکو ہیڈکوارٹر کے 21 کروڑ روپے کے غبن کی باقی حیسکو آپریشن ڈویژن کی طرز پر، انکوائری کنڈکٹ کیوں نہیں کروائی؟

03۔ اس پیرڈ کے دوران چیف آفیس کے Pay Bills پر کس نے دستخط کیے؟

04۔ سی ای او آفیس، ایڈمن سیکشن ایف ڈی سیکشن، پی ایم یو، پلاننگ، MIS جی ایس سی، سول اور پلاننگ ڈپارٹمنٹ ملازمین کے Pay Bills چیک کیے جائیں، وہاں اتنا سارا ڈفرنس کیوں آیا؟ اوروہ بل کن افسران کے دستخط سے پاس کیے گئے؟ DDO پاور کس کے تھے؟

05۔ چیف آفیس کا امپریس اکاؤنٹ چیک کیا جائے! بقایہ رقم کے پیسے کونسے Heads میں استعمال کیے گئے؟

06۔ ایف آئی اے حیسکو کے دیگر آپریشن ڈویژن کی طرح حیسکو (ہیڈکوارٹر) حیدرآباد چیف آفیس کے دفاتر کی انکوائری کرے! اور پھر سوال یہ بھی ہے، کہ یہ حیسکو چیف آفیس کی انکوائری اب تک کیوں نہیں کی گئی؟ حیسکو ہیڈکوارٹر کے Pay Bills کو نظرانداز کیوں کیا گیا؟ حیسکو چیف انٹرنل آڈٹ، حیسکو مینجرS&I کے دفتروں کی ڈپارٹمینٹل انکوائری کیوں نہیں ہوئی؟  

07۔ جس طرح آپرییشن ڈویژن حیسکو لطیف آباد میں جعلی اسیسمینٹ کیسز اور جعلی تنخواہوں اور ڈبل Double Drawn کا انکشاف ہوا ہے، اسی طرز پر حیسکو ہیڈکوارٹر میں جعلی اسیسمینٹ کا معاملہ کئی بار رونما ہو چکا ہے۔ مگر حیسکو اکاؤنٹس اینڈ آڈٹ فراڈ اینڈ کرپشن کیس کو انویسٹگیٹ کرنے والی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے کی جانب سے حیسکو ہیڈکوارٹر کے فنانس اسکینڈل کے چیپٹر کو کلوز کرنا یا پھر نظر انداز کر کے سارا فوکس اور دباؤ حیسکو آپریشن افسران و ملازمین پر ڈال کر، انہیں شدید خوف و حراس میں مبتلا کرنے کے پیچھے یقیناً کوئی خاص وجہ ہو سکتی ہے؟ جس سے حیسکو ہیڈکوارٹر میں ہونے والے فنانشل معاملات سے توجہ ہٹانے سمیت اور بھی کئی ساری وجوہات ہو سکتی ہیں۔

08۔ لہٰذا ایف آئی اے کو ملک امتیاز الحق کی انکوائری رپورٹ: کے مطابق سی ای او حیسکو (ہیڈکوارٹر) سے منسلک مختلف حیسکو دفاتر اور یونٹس کی فوراً تحقیقات شروع کرنی چاہئے، تاکہ انصاف کا بول بالا ہو سکے اور ایف آئی اے انکوائری کو صاف شفاف اور غیر جانبدار قرار دیا جا سکے اور حیسکو ایچ آر ڈائریکٹر شفیق میمن، ڈپٹی مینجر (سروسز) علی خان جمالی، سابقہ ڈپٹی مینجر (کیرئر مینجمینٹ) سعید احمد خان مینجر (ایس اینڈ آئی) اعجاز شیخ اور چیف انجنیئر جاوید آخوند کو اس ایف آئی اے انکوائری میں براہِ راست شامل کیا جائے، کیوں کہ ملک امتیاز الحق کی غیر جانبدار انکوائری کو نظرانداز کرکے، ان لوگوں نے اپنی ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی اور پھر اپنے گیم پلان کے مطابق صرف آپریشن آفسران کو ٹارگیٹ کیا، تاکہ حیسکو (ہیڈکوارٹر) کے غبن اکاؤنٹس فراڈ اینڈ کرپشن اسکینڈل کی بہتی گنگا میں ان کے جو ہاتھ گندے ہوئے تھے، وہ تب تک صاف کر سکیں۔ مگر شاید ان کو یہ معلوم نہیں، کہ کچھ جانباز دیگر ایجنسیاں اور تحقیقاتی ادارے ان کی ایسی تمام حرکات و سکنات پر گہری نظررکھے ہوئے ہیں، وہ اس گروہ کے ناپاک عزائم سے پہلے ہی خوب واقف تھے، جو اب ان کے تمام حقائق سامنے لانے کا وچن کرتے ہیں۔ (اندرونی ذرائع) کا بڑا دعویٰ

ملک امتیاز الحق کی جانب سے کی گئی انکوائری رپورٹ کا مواد ڈاؤنلوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

فائل نمبر:01
فائل نمبر:02
فائل نمبر:03

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ
We design and display to advertise your business contents