Header Ads Widget

اسلام آباد: پاکستان پاور سیکٹر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں ایک "الیکٹریکل انجنیئر" کی ذمہ داریاں اور کام کیا ہوتا ہے؟

بلاگر نیوز | آرٹیکل 

پاکستان پاور سیکٹر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں ایک "الیکٹریکل انجنیئر" کی ذمہ داریاں اور کام کیا ہوتا ہے؟

پاکستان کے پاور سیکٹر میں بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں  (Distribution Companies - DISCOs) میں ایک الیکٹریکل انجنیئر کی ذمہ داریاں اور کام بہت اہم ہوتے ہیں، کیونکہ یہ کمپنیاں بجلی کو صارفین تک پہنچانے کا آخری اور انتہائی اہم مرحلہ ہیں۔ الیکٹریکل انجنیئر کی ذمہ داریوں میں مندرجہ ذیل کام شامل ہو سکتے ہیں:

1.      ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کی دیکھ بھال

  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں ڈسٹری بیوشن لائنز، ٹرانسفارمرز، اور دیگر آلات کی باقاعدہ دیکھ بھال کرنا الیکٹریکل انجنئیر کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری ہے۔
  • نیٹ ورک میں خرابیوں کا پتہ لگانا اور انہیں فوری طور پر درست کرنا۔
  • پرانے اور ناکارہ آلات کو تبدیل کرنا یا انہیں اپ گریڈ کرنا۔

2.      بجلی کی ترسیل کو یقینی بنانا

  • صارفین تک بجلی کی موثر اور بلا روک ٹوک ترسیل کو یقینی بنانا۔
  • بجلی کے ضائع ہونے (Transmission and Distribution Losses) کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرنا۔
  • نیٹ ورک کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے نئے حل تلاش کرنا۔

   صارفین کے مسائل حل کرنا

  • صارفین کی شکایات کو سننا اور انہیں فوری طور پر حل کرنا۔
  • بجلی کی فراہمی میں رکاوٹوں کو دور کرنا۔
  • صارفین کو بجلی کے محفوظ استعمال کے بارے میں آگاہ کرنا۔

4۔   نیٹ ورک کی منصوبہ بندی اور توسیع

  • نئے علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے لیے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کی منصوبہ بندی کرنا۔
  • موجودہ نیٹ ورک کو بہتر بنانے اور اس کی توسیع کے منصوبے تیار کرنا۔
  • نئے صارفین کو نیٹ ورک سے جوڑنے کے لیے اقدامات کرنا۔

5۔   توانائی کے ضائع ہونے کو کم کرنا

  • بجلی کے چوری اور ضائع ہونے کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرنا۔
  • اسمارٹ میٹرز اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کو متعارف کرانا۔
  • نیٹ ورک کی نگرانی کے لیے آٹومیشن سسٹمز کو لاگو کرنا۔ 

6۔  حفاظت اور معیارات

  • ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کی حفاظت کو یقینی بنانا۔
  • قومی اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق کام کرنا۔
  • حفاظتی اقدامات کو لاگو کرنا اور عملے کو تربیت دینا۔ 

7۔  مینٹیننس اور ٹربل شوٹنگ

  • نیٹ ورک کے مختلف اجزاء کی باقاعدہ دیکھ بھال کرنا۔
  • خرابیوں کا پتہ لگانا اور انہیں فوری طور پر درست کرنا۔
  • آٹومیشن اور کنٹرول سسٹمز کو بہتر بنانا۔ 

8۔  ڈیٹا کا تجزیہ اور رپورٹنگ

  • بجلی کی ترسیل اور استعمال کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنا۔
  • مختلف رپورٹس تیار کرنا اور انہیں متعلقہ حکام تک پہنچانا۔
  • نیٹ ورک کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ڈیٹا پر مبنی فیصلے کرنا۔

9۔  تعلیم اور آگاہی

  • عوام کو بجلی کے محفوظ استعمال کے بارے میں آگاہی دینا۔
  • نوجوان انجنیئرز کو تربیت دینا اور ان کی رہنمائی کرنا۔

10۔ منصوبہ بندی اور بجٹنگ

  • ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کے منصوبوں کی حکمت عملی بنانا۔
  • بجٹ تیار کرنا اور منصوبوں کی لاگت کا تخمینہ لگانا۔
  • منصوبوں کو وقت پر مکمل کرنے کے لیے نگرانی کرنا۔

الیکٹریکل انجنیئرز پاکستان کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ وہ بجلی کی موثر ترسیل اور صارفین کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ ان کی تکنیکی مہارت، ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو مستحکم، موثر، اور محفوظ بنانے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔

جبکہ اس وقت ڈسکوز میں الیکٹریکل انجنیئر کر کیا رہے ہیں؟

پاکستان پاور سیکٹر ڈسکوز میں الیکٹریکل انجنیئرز اپنا اصل کام سرانجام دینے کے بجائے صرف اور صرف ریکوری کی مانیٹرنگ پر معمور ہیں، سارا سارا دن دفتروں میں بیٹھ کر اپنا قیمتی وقت برباد کر رہے ہیں، خصوصی طور ہماری سندھ کے سیپکو اور حیسکو کے الیکٹرکل انجنیئرز۔ جو الیکٹرکل انجنیئر اپنا اصل کام چھوڑ کر ایک کلرک روینیو اور منشی والا کام سر انجام دے رہے ہیں۔ جبکہ ان کے اپنے ٹیکنیکل کام اور فیلڈ میں اپنی عدم دلچسپی اور غیر ذمہ داری کی وجہ سے (نان ٹیکنیکل اسٹاف) کی مداخلت سے ڈسٹریبیوشن کمپنیز میں لائن لاسز میں اضافہ، گرڈ میں ایوریج سے زائد بجلی کی کھپت اور دیگر پاور انفرا اسٹرکچر میں ناپید تکنیکی نقصانات ہو رہے ہیں۔ خصوصی طور ہماری حیسکو اور سیپکو میں Right man for Right Job کا تصور اس وقت مکمل ختم ہو چکا ہے۔ جن الیکٹریکل انجنیئرز کو اپنی فیلڈ میں نئی ایجادات اور ریسرچ کرنی چاہئے، وہ سارا دن ڈسکوز میں ریکوری پر اپنی تمام صلاحیتیں اور اینرجی کو ضائع کر دیتے ہیں۔ اور اس کلچر کو فروغ دینے میں ہماری حکومت کی ناقص پالیسیاں بھی شامل ہیں۔ پاکستان ڈسکوز میں تعینات الیکٹریکل انجینئرز اکثر نان ٹیکنیکل عہدوں پر فائز ہیں۔ جس سے نہ صرف قومی خزانے کا نقصان ہو رہا ہے، بلکہ ان کی تکنیکی صلاحیتیں بیکار جا رہی ہیں اور ضائع ہو رہی ہیں۔ تاہم حکومت پاکستان پاور ڈسٹریبیوشن کمپنیز میں تعینات الیکٹریکل انجنیئرز کے حوالے سے اب کیا فیصلہ کرنے والی ہے؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ
We design and display to advertise your business contents