حیدرآباد: حیسکو کی کایا پلٹ: سی 1ی او حیسکو فیض اللّٰہ ڈاہری کا 2025 کامیابیوں کا سال اور 2026 کے کڑے اہداف
تحریر: بیورو رپورٹ تاریخ: 11 جنوری 2026
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) جو کبھی اپنے لائن لاسز اور انتظامی مسائل کی وجہ سے سرخیوں میں رہتی تھی،
اب ایک نئی تبدیلی کی راہ پر
گامزن ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) فیض اللہ ڈاہری کی سخت گیر پالیسیاں اور
جدید وژن کارفرما ہے۔ سال 2025 حیسکو کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوا، لیکن 2026 اپنے
ساتھ نئے امتحان لے کر آیا ہے۔
سال
2025: جب حیسکو نے خسارے کو
کامیابی میں بدلا
سال 2025 کو اگر
"حیسکو کی بحالی کا سال" کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ فیض اللہ ڈاہری سربراہی میں حیسکو انتظامیہ نے ان اہم معاملات پر خصوصی توجہ دی، جہاں سے ادارہ کھوکھلا ہو رہا تھا۔
- بجلی
چوروں کے خلاف اعلانِ جنگ: 2025 میں
فیض اللہ ڈاہری کی قیادت میں سندھ کے طول و عرض میں تاریخی کریک ڈاؤن کیا
گیا۔ ہزاروں غیر قانونی کنکشنز (کنڈے) کاٹے گئے اور اربوں روپے کے جرمانے
عائد کیے گئے۔
- ریکوری
میں ریکارڈ اضافہ: پہلی
بار حیسکو نے نادہندگان سے واجبات کی وصولی کے لیے "زیرو ٹالرینس"
کی پالیسی اپنائی، جس کے نتیجے میں ادارے کے ریونیو میں 25 فیصد سے زائد کا
اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
- ٹیکنالوجی
کا استعمال: انسانی
مداخلت کم کرنے کے لیے موبائل ریڈنگ اور اسمارٹ بلنگ سسٹم کو دیہی علاقوں تک
وسعت دی گئی، جس سے صارفین کی "اوور بلنگ" کی شکایات میں نمایاں
کمی آئی۔
2026: چیلنجز کا پہاڑ
اور عوامی توقعات
جیسے جیسے ہم 2026 میں
داخل ہو رہے ہیں، فیض اللہ ڈاہری کے سامنے چیلنجز کی نوعیت بدل چکی ہے۔ اب مقابلہ
صرف بجلی چوروں سے نہیں بلکہ بدلتے ہوئے حالات سے ہے:
1. انفراسٹرکچر کی تبدیلی: حیسکو کا ترسیلی نظام
(Transmission Lines) دہائیوں پرانا ہے۔ شدید گرمی میں ٹرانسفارمرز کا جلنا اور تاروں کا
ٹوٹنا ایک ایسا چیلنج ہے جس کے لیے بھاری سرمایہ کاری درکار ہے۔
2. بجلی کی قیمتیں اور عوامی
غصہ: عالمی
سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے بجلی مہنگی ہو رہی ہے۔ بطور
CEO، عوام کے غصے کو مینیج کرنا اور بلوں کی وصولی
کو برقرار رکھنا ان کے لیے ایک "آگ کا دریا" پار کرنے جیسا ہوگا۔
3. سولرائزیشن کا رجحان: تیزی سے لوگ سولر پینلز
کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جس سے حیسکو کے ریونیو ماڈل کو خطرہ لاحق ہے۔
فیض اللہ ڈاہری کا
"ویژن 2026"
ان تمام چیلنجز کے
باوجود،CEO حیسکو ایک واضح وژن رکھتے
ہیں۔ 2026 کے لیے ان کے ترجیحی اہداف درج ذیل ہیں:
- سمارٹ
گرڈ اسٹیشنز: حیدرآباد
اور میرپورخاص جیسے بڑے شہروں میں گرڈ اسٹیشنز کو مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ
کرنا تاکہ فالٹ کا فوری پتہ لگایا جا سکے۔
- کسٹمر
کیئر میں انقلاب: ایک
ایسی سینٹرلائزڈ ہیلپ لائن کا قیام جہاں صارف کی شکایت صرف درج نہ ہو بلکہ اس
کا ازالہ ہونے تک ٹریکنگ کی سہولت بھی میسر ہو۔
- گرین
انرجی پارٹنرشپ: حیسکو
اب صرف بجلی بیچنے والا ادارہ نہیں بلکہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے صارفین کو
"بجلی کا شراکت دار" بنانے کے عمل کو مزید تیز کرے گا۔
نتیجہ: فیض اللہ ڈاہری نے 2025
میں ثابت کیا کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو مشکل ترین ادارے کو بھی درست سمت میں ڈالا
جا سکتا ہے۔ تاہم، 2026 ان کی انتظامی صلاحیتوں کا اصل امتحان ثابت ہوگا جہاں
انہیں ٹیکنالوجی اور عوامی ریلیف کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔
کیا آپ اپنے علاقے میں
حیسکو کی حالیہ کارکردگی سے مطمئن ہیں؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹ سیکشن میں
کریں۔


0 تبصرے
ہمیشہ یاد رکھیئے اپنی منزل کی جانب سفر میں لوگ آپ کے راستے میں پتھر بچھائیں گے۔ مگر یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ان پتھروں سے اپنے لیئے کیا بنائیں گے؟ مشکلات کی ایک دیوار یا مشکلات سے بھرپور منزل کو پار کرنے کیلئے کامیابی کی ایک پل؟ ایک نصیحت ہے کہ اپنی زندگی کو مثالی بنائیں اور کچھ ایسا کر کے دکھائیں۔ جو آپ سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو؟ زندگی کامیابی کی طرف مسلسل ایک جدوجہد کا نام ہے۔ بے حس بے مقصد اور بے وجہ زندگی کسی کام کی نہیں۔ لہٰذا سچ کی پرچار کریں، ظالم کے خلاف مظلوم کی حمایت میں ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں اور انسانیت کی خدمت کر کے اعلیٰ ظرف ہونے کا ثبوت دیں۔ یہ ہی زندگی ہے۔