Header Ads Widget

حیدرآباد: "حیسکو میں میرٹ کو اس کا حق ملے گا؟ کیا خاتوں چیف انجنیئر میڈم فرحہ دیبا سی ای او حیسکو کے منصب کیلیے ایک بہترین انتخاب نہیں؟

اسپیشل ویب ڈیسک: حیدرآباد 

حیدرآباد: "کیا حیسکو میں میرٹ برقرار رہے گا؟ 



حیسکو کی خاتوں چیف انجنیئر، نہایت ہی باصلاحیت افسر اور قائدانہ صلاحیتوں کی مالک میڈم فرحہ دیبا جیسی ایماندار چیف انجنیئر کو حیسکو کے اعلیٰ منصب سے کیوں دور رکھا جا رہا ہے؟

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) اس وقت ایک سنگین انتظامی بحران اور "ون مین شو" کی صورتحال سے دوچار ہے۔ 7 جنوری 2025 سے ادارے کے دو سب سے اہم اور طاقتور عہدے یعنی چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) اور چیف فنانشل آفیسر (CFO)، جناب فیض اللہ ڈاہری کے پاس ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جناب فیض اللہ ڈاہری خود کنٹریکٹ پر بطور CFO کام کر رہے ہیں، لیکن گزشتہ کئی ماہ سے کمپنی کا مکمل کنٹرول ان کے پاس ہے۔ اس صورتحال نے ادارے کے اندرونی حلقوں اور عوامی سطح پر کئی سوالات کو جنم دیا ہے اور مختلف چہ مگوئیاں شروع ہو چکی ہیں۔

وفاقی ادارے میں ایک ہی وقت دو بڑے عہدے: کیا یہ میرٹ کے عین مطابق ہے؟

کارپوریٹ گورننس کے بنیادی اصولوں کے مطابق، مالیاتی کنٹرول (CFO) اور انتظامی سربراہی (CEO) کو الگ الگ ہاتھوں میں ہونا چاہیے، تاکہ شفافیت اور 'چیک اینڈ بیلنس' برقرار رہے۔ ایک ہی شخصیت کا دونوں عہدوں پر فائز ہونا نہ صرف کام کے معیار کو متاثر کرتا ہے، بلکہ ادارے میں اقربا پروری اور انتظامی بے راہ روی کے خدشات کو بھی جنم دیتا ہے۔

میڈم فرحہ دیبا: ایک پروفیشنل اور ایماندار افسر کا راستہ کیوں روکا جا رہا ہے؟

حیسکو کے پاس اس وقت میڈم فرحہ دیبا کی صورت میں ایک انتہائی موسٹ سینئر اور تجربہ کار چیف انجینئر موجود ہیں۔ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں ان کے بارے میں درج ذیل نکات زیرِ بحث ہیں:

  • تکنیکی مہارت: بجلی کی تقسیم کار کمپنی (DISCO) کو چلانے کے لیے ایک انجینئر کا ہونا ناگزیر ہے، جو سسٹم کی پیچیدگیوں کو باریک بینیوں کو سمجھ۔ سکے۔

  • پروفیشنل ریکارڈ: میڈم فرحہ دیبا کا کیریئر بے داغ رہا ہے اور وہ اپنی سخت گیری اور ایمانداری کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔

  • حق تلفی: جب ادارے میں ایک موزوں اور سینئر (انجنیئر) افسر موجود ہے، تو جونیئر یا کنٹریکٹ پر موجود افسر کو اضافی چارج دینا میرٹ کی صریحاً خلاف ورزی محسوس ہوتی ہے۔

سیاسی اثر و رسوخ یا میرٹ کی جنگ؟

ذرائع کا کہنا ہے، کہ میڈم فرحہ دیبا کی تعیناتی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی "غیر سمجھوتہ پسند" طبیعت مزاج اور سب سے بڑھ کر ایمانداری ہے۔ کیا حیسکو جیسے اہم ادارے کو صرف سیاسی بنیادوں پر چلایا جائے گا؟ کیا ایک ایسی خاتون افسر کو، جو اپنے اسکلز منوانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، محض اس لیے پیچھے دھکیلا جا رہا ہے، کیونکہ وہ نظام کی خرابیوں کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتیں؟

وفاقی حکومت اور وزارتِ توانائی سے مطالبہ:

حیسکو کے صارفین اور ملازمین کی بڑی تعداد کا مطالبہ ہے کہ:

  1. حیسکو میں مستقل بنیادوں پر CEO کی تعیناتی کی جائے۔

  2. سینئر ترین افسر، میڈم فرحہ دیبا کی قابلیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، انہیں ذمہ داری سونپی جائے۔

  3. سی ایف او (CFO) کو صرف ان کے اصل عہدے تک محدود رکھا جائے، تاکہ حیسکو کے مالیاتی معاملات میں شفافیت یقینی ہو۔ کیوں کہ اس وقت ایک ہی وقت فیض اللہ ڈاہری نہ صرف چیف ایگزیکٹو آفیسر کے اعلیٰ منصب پر فائز ہیں، بلکہ اسی دفتر میں بیٹھ کر بطور چیف فنانشل آفیسر حیسکو کے لاکھوں اور کروڑوں روپے کے چیک پر اپنے دستخط بھی کر رہے ہیں، جو حیسکو میں ایک دوہرا نظام ہے اور براہِ راست میرٹ اور انتظامی معاملات میں مداخلت کا باعث سمجھا جا رہا ہے۔

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کی بہتری کا واحد راستہ ایڈہاک ازم کا خاتمہ اور میرٹ کی بالادستی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے، کہ کیا وفاقی حکومت ایک پروفیشنل خاتون انجینئر کو اس کے جائز منصب پر فائز کرتی ہے یا نہیں؟


تبصرہ کریں: آپ کے خیال میں کیا حیسکو کی کارکردگی میں بہتری کے لیے ٹیکنو کریٹ سربراہ ضروری ہے؟

#HESCO #EnergyCrisis #FarhaDeeba #HyderabadNews #Governance #BloggerNews

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ
We design and display to advertise your business contents