Header Ads Widget

حیدرآباد: ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، حیسکو میں کروڑوں روپے منی لانڈرنگ اور فراڈ کے الزام میں اکاؤنٹس افسر اور سہولتکار پر ایف آئی آر درج

حیدرآباد: کروڑوں روپے منی لانڈرنگ کا الزام، ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، 



حیسکو اکاؤنٹس افسر پر ایف آئی آر درج، گرفتاری اور تفتیشی عمل شروع!

حیدرآباد: فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) اینٹی منی لانڈرنگ سرکل سکھر نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے قاسم آباد ڈویژن میں کروڑوں روپے کے سرکاری فنڈز میں خورد برد اور منی لانڈرنگ کا سراغ لگا لیا ہے۔ ایف آئی اے نے اس جرم میں ملوث اہم افسر اور اس کے سہولت کار کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

کیس کا پس منظر اور الزامات

​دستاویزات کے مطابق، یہ کارروائی پہلے سے درج ایک مقدمے (FIR No. 07/2024) کی کڑی ہے۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گل محمد نظامانی، جو کہ حیسکو آپریشن ڈویژن قاسم آباد میں بطور 'ڈویژنل اکاؤنٹس آفیسر' (DAO) تعینات تھے، نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا۔

​ملزم پر الزام ہے کہ اس نے ملی بھگت کے ذریعے:

  • ​جعلی پے بلز (Pay Bills) تیار کیے۔
  • ​غیر قانونی مطالبات اور بینک لسٹوں میں ہیرا پھیری کی۔
  • ​اوپن چیکس اور کراس چیکس کے ذریعے سرکاری فنڈز نکلوائے۔

5 کروڑ سے زائد کی خورد برد اور منی لانڈرنگ

​ایف آئی اے کی فنانشل انویسٹی گیشن کے مطابق، ملزم گل محمد نظامانی نے مجموعی طور پر 56,705,268 روپے (5 کروڑ 67 لاکھ سے زائد) کی غیر قانونی ٹرانزکشنز کیں۔ فرانزک معائنے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ چیکس پر دستخطوں میں دانستہ طور پر تبدیلی کی گئی اور مالیاتی ریکارڈ کا کسٹوڈین ہونے کے باوجود ملزم نے ان غیر قانونی اخراجات پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا، جو اس کی مجرمانہ شمولیت کا واضح ثبوت ہے۔

سہولت کار اور بے نامی اکاؤنٹس کا استعمال

​تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ملزم نے رقم کی منتقلی کے لیے اپنے ایک ماتحت، اسسٹنٹ لائن مین (جو بطور کلرک کام کر رہا تھا) بابر حسین زیدی کو بطور سہولت کار استعمال کیا۔

  • 40,904,674 روپے کی رقم مختلف بینک اکاؤنٹس کے ذریعے گھمائی گئی۔
  • ​بابر حسین زیدی کے اپنے اکاؤنٹ میں 86 لاکھ سے زائد رقم منتقل کی گئی۔
  • ​ملزم کی اہلیہ اور کرایہ داروں کے اکاؤنٹس کو بھی منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔
  • ​رقم نکالنے کے لیے 1300 سے زائد اوپن چیکس کا سہارا لیا گیا۔

غیر قانونی اثاثوں کی خریداری

​ایف آئی اے کے مطابق، اس کرپشن سے حاصل ہونے والی رقم سے کراچی کے مہنگے ترین علاقے بحریا ٹاؤن کراچی میں 125 مربع گز کا ایک پلاٹ (نمبر BTK2H-LMN0099) بھی خریدا گیا، جس کی بکنگ جنوری 2023 میں کی گئی تھی۔

ایف آئی اے کا ایکشن

​سب انسپکٹر عابد علی مری کی مدعیت میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی دفعات 3 اور 4 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور اس نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کے کردار کا تعین بھی جلد کر لیا جائے گا۔

ایف آئی آر کاپی ڈاؤنلوڈ کرنے کیلے 

یہاں کلک کریں 

ٹیگز: #FIA #HESCO #MoneyLaundering #CorruptionNews #Hyderabad #BreakingNews #PakistanLegal #حیسکو #ایف_آئی_اے #کرپشن_نیوز

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ
We design and display to advertise your business contents