Header Ads Widget

حیدرآباد: حیسکو میں یکمشت پیکج والے حیسکو افسران و ملازمین کی شاہانہ طرزِ زندگی پر وفاقی ایجنسیز نے نظریں جمالیں

حیسکو: لمپ سم (Lumpsum) ملازمین کے "شاہانہ طرزِ زندگی" پر وفاقی تحقیقاتی اداروں 

حیسکو میں وفاقی ایجنسیز کی تحقیقات


کی نظریں، بڑی کارروائی کا امکان

حیدرآباد (نیوز ڈیسک)

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں لمپ سم (Lumpsum) ہے پیکج کی بنیاد پر بھرتی ہونے والے حیسکو افسران و ملازمین کے اثاثوں اور اچانک بدلتے ہوئے معیارِ زندگی نے وفاقی تحقیقاتی اداروں کی خصوصی توجہ حاصل کر لی ہے۔ محدود تنخواہ پر کام کرنے والے کئی افسران و ملازمین کے غیر معمولی مالی اثاثوں نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

صرف 24 ماہ میں حیرت انگیز تبدیلی: مہنگی گاڑیاں اور پوش علاقوں میں بنگلے اور شاہانہ اندازِ زندگی!

​ذرائع کے مطابق، حیسکو ریجن میں مختلف مقامات پر تعینات SDOs، ریونیو افسران، لائن سپرنٹنڈنٹس اور کمرشل اسسٹنٹس کے لائف اسٹائل میں گذشتہ 24 ماہ کے دوران ایسی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، جو عام عقل سے بالاتر ہے۔

  • لگژری گاڑیاں: لمپ سم (محدود فکسڈ سیلری) پر کام کرنے والے کئی ملازمین اب کروڑوں روپے مالیت کی مہنگی گاڑیوں میں گھومتے نظر آتے ہیں۔
  • پوش علاقوں میں رہائش: شہر کے مہنگے اور پوش علاقوں میں عالی شان بنگلوں کی خریداری اور وہاں رہائش اختیار کرنے جیسے حقائق اب واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔

وفاقی ایجنسیز کی خصوصی توجہ اور مانیٹرنگ کا عمل تیز:

​ان افسران کے شاہانہ اخراجات اور محدود ذرائع آمدن میں واضح فرق نے وفاقی احتسابی ایجنسیز کو حرکت میں آنے پر مجبور کر دیا ہے۔

  1. خفیہ تحقیقات: وفاقی ایجنسیز نے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے ان ملازمین کی فہرستیں تیار کر لی ہیں، جن کے اثاثے ان کی تنخواہ سے مطابقت نہیں رکھتے۔
  2. اثاثوں کی چھان بین: ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران بنائی گئی جائیدادوں اور بینک بیلنس کا ریکارڈ اکٹھا کیا جا رہا ہے اور ایسے حیسکو ملازمین کے حرکات کو سکنات پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے۔ 
  3. گھیرا تنگ: خفیہ مانیٹرنگ کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے اور کسی بھی وقت بڑی گرفتاریوں یا ریفرلز کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

احتساب کا شکنجہ

​عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ لمپ سم پر بھرتی ہونے والے ملازمین کا اس قدر تیزی سے امیر ہونا محکمے میں مبینہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وفاقی ایجنسیز کی اس کارروائی سے حیسکو کے اندر موجود کالی بھیڑوں کے خلاف سخت ایکشن کی توقع کی جا رہی ہے۔

تاہم کچھ عوامی حلقوں کا خیال ہے، سرکاری اداروں میں احتسابی عمل کو تیز کرنے اور نظر داری کرنے والی وفاقی ایجنسیز اپنا کام درست انداز میں نہیں کر رہیں اور ایسے افسران و ملازمین اور ایجنسیز اہلکاروں کے مابین گیم فکسڈ ہے اور احتساب نام کی کوئی چیز عمل میں نہیں لائی جائیگی! 

مزید خبروں اور حقائق کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کرتے رہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ
We design and display to advertise your business contents