Header Ads Widget

حیدرآباد: حیسکو فیلڈ فارمیشن اور افسران کیلیے مارچ 2026 میں نئی گاڑیاں اور آپریشنل چیلنجز: ایک خطرے کی گھنٹی!

حیدرآباد ویب ڈیسک اسپیشل رپورٹ: 
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی
(حیسکو) کی جانب سے فیلڈ فارمیشن اور دیگر محکموں کے لیے نئی گاڑیوں کی فراہمی بلاشبہ ایک مثبت قدم ہے، جس سے کمپنی کی کارکردگی اور فیلڈ آپریشنز میں بہتری آئے گی۔ 

تاہم، اس خوش آئند فیصلے کے ساتھ ہی کچھ سنگین حفاظتی خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

حیسکو کے افسران اور فیلڈ سٹاف نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان گاڑیوں پر واضح طور پر "حیسکو لوگو" کی موجودگی انہیں شرپسند عناصر یا مشتعل عوامی ردعمل کا آسان ہدف بنا سکتی ہے۔ دورانِ آپریشن یا عوامی مقامات پر پارکنگ کے وقت، ان گاڑیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جانا نہ صرف قومی اثاثوں کا نقصان ہے بلکہ عملے کی جان و مال کے لیے بھی خطرہ ہے۔

اہم نکات:

  • شناخت کا خطرہ: لوگو کی وجہ سے گاڑیوں کی فوری شناخت انہیں تخریب کاری کا نشانہ بنا سکتی ہے۔
  • عوامی ردعمل: لوڈ شیڈنگ یا فنی خرابیوں کے دوران مشتعل افراد ان گاڑیوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
  • اثاثوں کا تحفظ: یہ گاڑیاں ادارے کا سرمایہ ہیں، ان کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

ہم حکامِ بالا سے گزارش کرتے ہیں کہ ان خدشات پر ہمدردانہ غور کیا جائے تاکہ فیلڈ عملہ بغیر کسی خوف و خطر اپنی خدمات سرانجام دے سکے۔

#HESCO #HyderabadElectric #SafetyFirst #PublicAssets #FieldOperations #UtilityService


حفاظتی تدابیر اور تجاویز

ایسی صورتحال میں جہاں ادارے کی پہچان ہی اس کے لیے خطرہ بن جائے، درج ذیل حفاظتی اقدامات کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں:

1.  میگنیٹک (Magnetic) لوگو کا استعمال

مستقل پینٹ یا سٹیکر کے بجائے مقناطیسی لوگو استعمال کیے جائیں۔ فیلڈ میں کام کے دوران ضرورت پڑنے پر انہیں لگایا جائے اور حساس علاقوں یا عوامی پارکنگ میں انہیں ہٹا دیا جائے تاکہ گاڑی عام گاڑی کی طرح نظر آئے۔

2.  ٹریکنگ سسٹم اور جیو فینسنگ

تمام نئی گاڑیوں میں جدید GPS ٹریکرز نصب ہونے چاہئیں۔ اگر کوئی گاڑی کسی غیر متعلقہ یا خطرناک علاقے میں داخل ہو، تو کنٹرول روم کو فوری اطلاع ملنی چاہیے۔

3.  ڈیش بورڈ کیمرے (Dash Cams)

گاڑیوں کے آگے اور پیچھے کیمرے نصب کیے جائیں۔ یہ نہ صرف حادثات کی صورت میں ثبوت فراہم کریں گے بلکہ کسی بھی حملے یا نقصان پہنچانے والے فرد کی شناخت میں بھی مدد دیں گے۔

4.  محفوظ پارکنگ پروٹوکول

افسران کو پابند کیا جائے کہ وہ گاڑیاں صرف محفوظ اور نامزد کردہ پارکنگ ایریاز میں کھڑی کریں۔ پبلک پلیس پر گاڑی چھوڑتے وقت نجی سیکیورٹی یا مقامی پولیس سے ہم آہنگی ضروری ہے۔

5.  کمیونٹی انگیجمنٹ

عوام میں یہ شعور اجاگر کیا جائے کہ یہ گاڑیاں ان کی خدمت کے لیے ہیں۔ گاڑی کو نقصان پہنچانا دراصل بجلی کی بحالی کے عمل کو سست کرنا ہے، جس کا نقصان بالآخر عوام ہی کو ہوتا ہے۔

6.  ریفلیکٹیو گلاس (Tints)

قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے گاڑیوں کے شیشوں پر ایسی فلم استعمال کی جائے جس سے اندر بیٹھے عملے کی شناخت فوری طور پر ظاہر نہ ہو، تاکہ وہ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں محفوظ رہ سکیں۔

حیسکو کی نئی گاڑیاں: سہولت یا فیلڈ اسٹاف کے لیے نیا خطرہ؟

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کی جانب سے فیلڈ فارمیشن اور مختلف شعبہ جات کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے نئی گاڑیوں کی خریداری کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ جہاں یہ اقدام ادارے کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے کے لیے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، وہی دوسری جانب حیسکو کے افسران اور فیلڈ عملے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

گاڑیوں پر لگا حیسکو کا لوگو (Logo) بن گیا خطرہ: افسران کے تحفظات

ذرائع کے مطابق، حیسکو کے کئی سینئر افسران اور فیلڈ میں کام کرنے والے ملازمین نے ان نئی گاڑیوں پر کمپنی کے واضح لوگو اور نام کی موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ:

  • آسان ہدف: مشتعل عوامی ردعمل یا بجلی کے بحران کے دوران، حیسکو کا لوگو لگی ہوئی گاڑیاں شرپسند عناصر کے لیے آسان ہدف ثابت ہوتی ہیں۔
  • عوامی مقامات پر پارکنگ کا مسئلہ: کسی بھی ہنگامی کام یا آپریشن کے دوران گاڑی کو پبلک پلیس پر کھڑا کرنا اب "جان بوجھ کر نقصان کو دعوت دینے" کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔
  • تخریب کاری کا خدشہ: حیسکو مخالف قوتیں ان قیمتی اثاثوں کو نقصان پہنچا کر براہِ راست ادارے کو مالی اور آپریشنل نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

عملے کی جان و مال کا تحفظ داؤ پر؟

فیلڈ میں موجود اہلکاروں کا کہنا ہے کہ "جب ہم کسی حساس علاقے میں فالٹ درست کرنے جاتے ہیں، تو گاڑی پر موجود بڑا لوگو دور سے ہی ہماری پہچان کروا دیتا ہے، جس سے نہ صرف گاڑی بلکہ عملے کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔"

اس صورتحال کا حل کیا ہو سکتا ہے؟ جانتے ہیں ماہرین کی رائے۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ حیسکو انتظامیہ کو ان خدشات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ جدید دور میں کئی یوٹیلٹی کمپنیاں مستقل لوگو کے بجائے "ڈی ٹیچ ایبل" (Detachable) یا مقناطیسی لوگو استعمال کرتی ہیں تاکہ حساس حالات میں گاڑی کی شناخت پوشیدہ رکھی جا سکے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ حیسکو انتظامیہ اپنے ان قیمتی اثاثوں اور جاں فشاں عملے کے تحفظ کے لیے کیا ٹھوس اقدامات اٹھاتی ہے۔ کیا ان گاڑیوں کی سیکیورٹی کے لیے کوئی نیا پروٹوکول وضع کیا جائے گا یا ملازمین کو اسی خوف کے سائے میں کام کرنا ہوگا؟


آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا سرکاری گاڑیوں پر واضح لوگو ہونا ضروری ہے یا حفاظتی نقطہ نظر سے اس میں تبدیلیاں کرنا ضروری ہے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

#HESCONews #HyderabadElectric #UtilityCrisis #FieldSafety #PublicAssets #HESCO #BreakingNews

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ
We design and display to advertise your business contents