Header Ads Widget

حیدرآباد: حیسکو کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل، چار حیسکو اہلکار نوکری سے برطرف، باقی مگر مچھ کو محفوظ راستہ

حیسکو تاریخ کا سب سے بڑا اکاؤنٹس اسکینڈل: کرپشن کی کالی گنگا میں 



ہاتھ، حیدرآباد حیسکو اکاؤنٹس اسکینڈل میں ملوث صرف چار اہلکاروں کو سزائیں کیوں؟ 

​بلاگر نیوز ویب | ڈیسک 

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے خلاف جاری مہم میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اپریل 2026 میں حیسکو انتظامیہ نے سنگین الزامات ثابت ہونے پر 4 اکاؤنٹس افسران کو ملازمت سے برطرف (Dismissal from Service) کر دیا ہے۔ ان افسران پر نہ صرف نوکری کے دروازے بند کیے گئے ہیں بلکہ ان کے ذمہ مجموعی طور پر کروڑوں روپے کی ریکوری بھی ڈالی گئی ہے۔  

​اسٹوری: کرپشن کا جال اور اکاؤنٹس کا کھیل

​یہ معاملہ حیسکو کی تاریخ کا سب سے بڑا اکاؤنٹس اسکینڈل تصور کیا جا رہا ہے، جس میں فنانس، بینکنگ اور انجینئرنگ کے شعبوں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ اس اسکینڈل میں سابقہ چیف فنانشل آفیسر (CFO) میڈم حنا ٹالپر اور ڈائریکٹر فنانس دین محمد کیریو کو بھی گرفتار کیا گیا تھا، جو بعد ازاں ضمانت پر رہا ہوئے۔ تاہم، عوام اور حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ ان اعلیٰ حکام کے خلاف محکمانہ کارروائی (E&D Rules) اب تک کس نتیجے پر پہنچی ہے؟  

​حالیہ جاری کردہ آرڈرز کے مطابق برطرف کیے گئے افسران میں درج ذیل شامل ہیں:

​مسٹر غلام محمد (اکاؤنٹس افسر بجٹ حیسکو ہیڈکوارٹر): ان پر 68.82 ملین روپے کی ریکوری عائد کی گئی ہے۔  

​مسٹر زوہیب احمد چانڈیو (حیسکو ڈویژنل اکاؤنٹس آفیسر عمرکوٹ): ان کے خلاف دو الگ الگ کیسز میں مجموعی طور پر 161 ملین روپے سے زائد کی ریکوری کے احکامات دیے گئے ہیں۔  

​مسٹر محمد اسماعیل جکھرانی (DAO نوابشاہ): ان پر سب سے زیادہ 321.29 ملین روپے کی ریکوری عائد کی گئی ہے۔

​مسٹر سجاد احمد اوڈھانو (ڈویژنل اکاؤنٹس افسر، سانگھڑ): ان پر دو مختلف چارج شیٹس کے تحت تقریباً 205 ملین روپے کی ریکوری عائد کی گئی ہے۔  

​اہم سوالات: کیا انصاف کے تقاضے پورے ہو رہے ہیں؟

​اس بڑی کارروائی کے بعد کئی سنجیدہ سوالات جنم لے رہے ہیں:

​اعلیٰ حکام کے خلاف کارروائی کہاں ہے؟ جب سابقہ CFO اور ڈائریکٹر فنانس جیسے اہم عہدیدار گرفتار ہوئے، تو کیا وجہ ہے کہ اب تک صرف اکاؤنٹس افسران کو ہی برطرفی کا نشانہ بنایا گیا؟ کیا انہیں محکمانہ سزا دی گئی یا وہ اب بھی سسٹم کا حصہ ہیں؟

​ذمہ دار حیسکو فنانس، آڈٹ آفیسرز انجنئیرز اور وینڈرز کا کیا ہوگا؟ اس اسکینڈل میں حیسکو کے ایگزیکٹو انجینئرز اور پرائیویٹ وینڈرز کے نام بھی سامنے آئے تھے۔ کیا انہیں "محفوظ راستہ" دے کر صرف اکاؤنٹس سائیڈ کے افسران کو قربانی کا بکرا بنانا میرٹ کے منافی نہیں؟

​ایف آئی اے (FIA) کی کارروائی: یہ کیس اس وقت اسپیشل اینٹی کرپشن کورٹ حیدرآباد اور سکھر میں زیر التوا ہے۔ کیا ایف آئی اے ان تمام کرداروں کو منطقی انجام تک پہنچا پائے گی جنہوں نے قومی خزانے کو مجموعی طور پر اربوں روپے کا نقصان پہنچایا؟  

پس پردہ حقائق: 

01۔ کیا ان آفیس آرڈرز میں ایف آئی اے کی جانب سے سرکاری مدعیت میں درج کی گئی جن ایف آئی آرز کا حوالہ دیا گیا ہے، ان میں صرف ان چار اکاؤنٹس افسران کے نام شامل تھے؟ 

جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں؟ ان ایف آئی آرز میں سب سے نمایاں نام سابقہ چیف فنانشل آفیسر حیسکو حیدرآباد جناب میڈم حنا ٹالپر کا تھا، پھر حیسکو ڈائریکٹر فنانس (بینکنگ) دین محمد کیریو کا تھا، پھر ایگزیکٹو انجنیئرز، آڈٹ افسران اور پھر سب سے اہم بات کہ یہ (ایف آئی آر) آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو یونین کے مرکزی صدر جناب عبداللطیف نظامانی کے بیٹے ڈویژنل اکاؤنٹس آفیسر حیسکو قاسم آباد جناب گل محمد نظامانی پر بھی درج کی گئی تھی اور اس پر بھی کروڑوں روپے غبن کا الزام عائد ہے اور ایف آئی اے نے اس کو گرفتار بھی کیا تھا، تو سوال یہ بھی بنتا ہے؟ کہ ٹارگیٹ صرف یہ چار اکاؤنٹس افسران ہی کیوں؟ 

​حیسکو صارفین اور باضمیر ملازمین کی نظریں اب عدالتوں اور وفاقی تحقیقاتی ادارے پر جمی ہیں کہ کیا اس "دلدل" میں پھنسے تمام بڑے مگر مچھوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا؟

حیسکو اکاؤنٹس اسکینڈل میں میجر پینلٹیز دیے جانے والے حیسکو اکاؤنٹس افسران کے آفیس آرڈر ڈاؤن لوڈ کرنے کیلے یہاں کلک کریں 

اس بلاگ پوسٹ پر نیچے (کمینٹ سیکشن) میں آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ

تین 3000 ہزار سے زائد گوگل بلاگ + (فیس بک، سوشل میڈیا) گروپ اینڈ پیج وزیٹرس روزانہ
We design and display to advertise your business contents